افغانستانعوام کی آواز

طورخم بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں 25 دن بعد بحال

پیدل آمدورفت 2 دن بعد بحال ہو جائے گی، امیگریشن کا عملہ اس وقت بھی موجود ہے لیکن سکینر خرابی کے باعث مسافروں کی آمدورفت معطل رہے گی، سکینر پر مرمتی کام ہو گا ٹیکنیکل خرابی دور ہونے کے بعد مسافروں کو جمعہ کے دن اجازت دی جائے گی۔ زرائع

پاک افغان طورخم بارڈر کھول دیا گیا; بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں 25 دن بعد بحال ہو گئیں۔ پاکستان اور افغانستان کے جرگے کے ارکان کے درمیان طویل عرصے سے جاری مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد طورخم بارڈر کراسنگ کو 25 دن بعد دوبارہ کھول دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر پر فلیگ میٹنگ میں تجارت بحالی کا فیصلہ ہوا جس کے بعد 25 دن کی بندش کے بعد تجارت کے لئے سرحد کھول دی گئی۔ علاوہ ازیں پیدل آمدورفت 2 دن بعد بحال ہو جائے گی، امیگریشن کا عملہ اس وقت بھی موجود ہے لیکن سکینر خرابی کے باعث مسافروں کی آمدورفت معطل رہے گی، سکینر پر مرمتی کام ہو گا ٹیکنیکل خرابی دور ہونے کے بعد مسافروں کو جمعہ کے دن اجازت دی جائے گی۔

سرحد کھولنے کا فیصلہ بدھ کے روز طورخم میں ایک فلیگ میٹنگ میں کیا گیا جس میں افغان وفد کی نمائندگی ڈپٹی گورنر مولوی عزیز اللہ اور کمشنر مولوی حکمت اللہ نے کی۔ افغانستان کی جانب سے فائرنگ سے تباہ ہونے والے پاکستانی کسٹم انفراسٹرکچر کی مرمت کے بعد سرحد اب کارگو گاڑیوں کے لئے کھول دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں 15 اپریل تک فوری جنگ بندی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ فریقین نے متنازع چیک پوسٹوں کی تعمیر روکنے پر بھی اتفاق کیا۔

دوسری جانب افغانستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ بارڈر کو گاڑیوں اور مریضوں کے لئے کھول دیا گیا ہے جبکہ پیدل چلنے والوں کو جمعہ کو اجازت دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: باڑہ: دو مختلف واقعات میں چار بچوں سمیت پانچ افراد جاں بحق، چھ زخمی

واضح رہے کہ 21 فروری کو پاکستانی اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان سرحد کے دونوں جانب تعمیراتی سرگرمیوں پر اختلافات پیدا ہونے کے بعد طورخم بارڈر کراسنگ پر لوگوں کی سرحد پار نقل و حرکت اچانک معطل کر دی گئی تھی۔ رواں ماہ صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی تھی جب پاکستان اور افغان طالبان کی افواج کے درمیان سرحد پر فائرنگ کے تبادلے میں 6 فوجیوں سمیت 8 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ متعدد مکانات، ایک مسجد اور کلیئرنگ ایجنٹس کے کچھ دفاتر کو توپ خانے کی گولہ باری سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ سرحد پار فائرنگ کا سلسلہ 3 روز تک جاری رہا تھا۔ اس کے بعد سرحد کے دونوں جانب قبائلی عمائدین اس تعطل کو ختم کرنے کے لئے بات چیت میں مصروف ہوئے۔

پاکستانی جرگے کے ارکان نے اپنے افغان ہم منصبوں کو بتایا کہ سرحد صرف اسی صورت میں کھولی جائے گی جب وہ’دونوں طرف سرحد کے موجودہ ڈھانچے میں کسی بھی تبدیلی کے بارے میں ایک دوسرے کو آگاہ کرنے کے لئے طے شدہ پروٹوکول اور معاہدوں کی مکمل پاسداری کریں گے۔

افغان فریق کو بتایا گیا کہ پاکستان سرحد پار کسی بھی تعمیراتی یا تزئین و آرائش کی سرگرمی کو برداشت نہیں کرے گا کیونکہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان یہ فیصلہ اور اتفاق کیا گیا تھا کہ سرحد کے زیرو پوائنٹ کے قریب کوئی اضافی ڈھانچہ نہیں بنایا جائے گا۔

ادھر طورخم پر کسٹم حکام کا کہنا تھا کہ سرحد کی بندش سے روزانہ تقریباً 15 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے کیونکہ افغانستان کو برآمدات رک گئی ہیں۔ مزید برآں افغانستان سے درآمدات کی معطلی کی وجہ سے 54 کروڑ 50 لاکھ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔

ادھر طورخم کے دوستی ہسپتال کے ذرائع کا کہنا تھا کہ افغانستان سے روزانہ 70 سے 80 مریض آتے ہیں جو طبی معائنے کے لئے درست ویزے پر پاکستان پہنچتے ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button