سیاستکالم

”میں ان کو نہیں چھوڑوں گا” سے ”بندوق کی نشست” تک

ذیشان یوسفزئی

وطن عزیز کے سیاسی میدان کے کھلاڑی آج کل کچھ زیادہ ہی متحرک ہیں اور اقتدار کی راہداریوں میں جوڑ توڑ اور تبدیلوں کی باتیں کر رہے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ تمام میڈیا چینلز، اخبارات، سوشل میڈیا پر ایک ہی بحث چل رہی ہے۔ پاکستان کا بچہ بچہ اس سوچ میں مبتلا ہے اور کشمکش میں ہے کہ نجانے کیا ہونے والا ہے۔

ہر روز نئی ڈیڈ لائن دی جاتی ہے کہ آئندہ 48 گھنٹے اہم ہیں، اگلے دو ہفتے اہم ہیں، من گھڑت بیانات کی بھی بھرمار ہے۔ ایک سٹیج شو ہے جو چل رہا ہے اور شہر اقتدار کی سڑکوں پر ایک ہلچل مچی ہوئی ہے۔ ملک بھر کی تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں کے قائدین دنیا کے خوبصورت دارالحکومت میں سر جوڑ کے جمع ہوئے ہیں، مسلسل ملاقاتیں جاری ہیں، اپوزیشن ایک دوسرے سے مل بیٹھ کر معاملات طے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جس بندے کے خلاف تحریک پیش کی جا رہی ہے وہ بذات خود ملک کے دوسرے شہروں میں زیادہ متحرک ہیں، وزیراعظم کبھی سیاسی اتحادیوں کے پاس لاہور تو کبھی کراچی جاتے ہیں، کبھی میلسی کبھی حافظ آباد اور کبھی دیر اور کبھی سوات کے چکر لگاتے اور وہاں پر پاور شو کرتے ہیں۔ تاہم شہر اقتدار میں ابھی تک پوسٹرز اور اوورسیز کنونشن پر ہی صبر کر لیا ہے، شہر بھر میں پوسٹرز کی بھرمار ہے اور خان صاحب کا شکریہ ادا کیا جا رہا ہے۔ لیکن اسلام آباد کے ڈی چوک پر جہاں وزیراعظم کے منصب پر فائز ہونے سے پہلے خان اکثر پائے جاتے تھے، اس جگہ پر 27 مارچ کو جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور دس لاکھ لوگ لانے کا دعوی بھی ہوا ہے۔

لیکن اس تمام تر صورت حال میں اگر دیکھ لیا جائے تو حکومت نے حزب اختلاف کا روپ اپنایا ہوا ہے اور سب سے غور طلب چیز وزیراعظم کا لب و لہجہ ہے۔ میں ان کو رلاؤں گا، ”میں ان کو نہیں چھوڑوں گا” سے بات اب ”بندوق کی نشست” پر پہنچ چکی ہے، عمران خان سیاسی حریفوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں، نوبت یہاں تک پہنچی کہ آن دی ریکارڈ میڈیا میں یہ باتیں کی جاتی ہیں کہ فلاں کے خلاف کیسز تیار ہیں، فلاں کو چھوڑیں گے نہیں بس یہ تحریک والا معاملہ نبٹنے دیں ذرا۔

یہ تو ہو گئیں مملکت کے سربراہ کی باتیں، اسی دوران خان کے ٹیم میٹس بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک معروف وزیر جو ابھی ابھی سندھ کا دورہ کر کے آئے ہیں، وہ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کر رہے تھے، بندوق کی نشست والی بات پر ان سے سوال پوچھا گیا تو موصوف نے جواب دیا کہ یہ تینوں نشانے پر ہیں البتہ زرداری صاحب گیم کے ماسٹر مائنڈ ہیں اور ان کو معافی نہیں ملے گی۔ جبکہ دس لاکھ بندہ لانے والے وزیر صاحب کہہ رہے تھے کہ تمام ارکان تحریک عدم اعتماد کے لیے عوامی جلسے سے ہو کر اندر جائیں گے اور پھر واپس بھی اسی جلسے میں آئیں گے، جو کہ دبے الفاظ میں ایک دھمکی ہے۔

دوسری جانب حزب اختلاف کے لوگ بھی دما دم مست قلندر کے ماہر ہیں۔ پی پی پی کے چیئرمین نے گزشتہ روز ایک جارحانہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم کو دھمکی دے ڈالی کہ میں آپ کا وہ حشر کروں گا کہ آپ کی نسلیں یاد رکھیں گی، ساتھ میں انہوں نے خاتون اول اور علیمہ خان کے متعلق کرپشن کی خبریں بھی  دیں۔

مولانا فضل الرحمان جو کہ ایک منجھے اور سلجھے ہوئے سیاست دان ہیں اور تحمل سے کام لیتے ہیں لیکن انہوں نے بھی خبردار کیا کہ ہمارے کارکنان کی لاٹھیاں تیل میں پڑی ہوتی ہیں، پرسوں رات گئے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے سیریس نوٹ پر باتیں کیں اور کہا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔

مسلم لیگ کے سعد رفیق نے بھی جارحانہ انداز میں کہا کہ آؤ دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے، عرض یہ کہ سیاست دان ایک دوسرے کے گریبانوں تک پہنچ چکے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ تمام تر صورت حال کس کے لیے بنائی گئی؟ عوام اور پاکستان کے لیے؟

اگر عوام کے لیے ہے یہ سب تو آسمان سے باتیں کرنے والےیمہنگائی تو بھلائی جا چکی ہے۔ ملکی تاریخ میں ڈالر بلند ترین سطح پر ہے، اس پر کوئی بات نہیں۔ حکومت بھی اب سے پہلے تو کبھی اپنے اتحادیوں کے ساتھ کسی ملکی مسلے پر نہیں بیٹھی کہ کس طرح ان مسائل کو حل کیا جائے۔

اپوزیشن اگر عدم اعتماد عوام کے لیے لا رہی ہے تو ان کے پاس مسائل حل کرنے کے لیے کیا پلان ہے؟

صحافی برادری بھی تقسیم کا شکار ہے اور عوام کی بات کوئی نہیں کر رہا، کوئی بول رہا ہے کہ حکومت جا رہی ہے تو کوئی کہہ رہا ہے کہ نمبرز پورے نہیں ہیں۔

فرض کریں عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو کیا پھر پٹرول 60 روپے کا لیٹر ملے گا؟ آٹا، چینی، دالیں، گیس، بجلی سستی ہو جائے گی؟ کیا تعلیم اور صحت مفت ہو گی؟ انصاف کا حصوال آسان ہو گا؟

اگر ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر یہ ہنگامہ، یہ الزام تراشی اور یہ بہتان بازی کس لیے؟ اپنے اقتدار کے لیے؟؟

ہمیں سوچنا ہو گا اور بحیثیت پاکستانی اس کا حل نکالنا ہو گا اور یہ اسی صورت ہو گا جب ہم جمہوریت کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھیں اور اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں۔ اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو!

ذیشان یوسفزئی ایک طالب علم ہیں لیکن حصول علم کے ساتھ ساتھ لکھت پڑھت کا بھی شوق پال رکھا ہے، ان کے کالم و مضامین اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔
Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button