قبائلی اضلاع کو تھری اور فور جی کی سہولیات دی جائیں: قرارداد منظور

 

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایک قرارداد متفقہ طور پر پاس کی گئی جس میں وفاقی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیاگیا ہے کہ تمام قبائلی اضلاع کو تھری جی اور فور جی کی سہولیات دی جائیں۔

قراردادعوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ قبائلی اضلاع کے لوگ انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔ اس موقع پر سردار حسین بابک کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں بدامنی کے دوران تباہی کی وجہ سے قبائلی اضلاع کے لوگ مختلف قسم کے مسائل سے دوچارہیں جس میں تیز انٹرنیٹ کی عدم دستیابی بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

سردار حسین بابک نے خیبرپختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی اضلاع کے لوگوں کو انٹرنیٹ اور موبائل کی سہولیات دی جائیں۔ قرارداد کو متفقہ طور پر پاس کیاگیا۔ خیال رہے کہ قبائلی اضلاع میں انٹرنیٹ کی سہولت بدامنی کے دوران معطل ہوگئی تھی تاہم قبائلی اضلاع میں امن کی بحالی کے بعد انٹرنیٹ کی دوبارہ بحالی کے لئے کئی اعلانات کئے گئے لیکن اسکو عملی جامہ نہ پہنایا جاسکا۔

اس دوران اور قراردادیں بھی متفقہ طور پر منظور ہوئیں جوکہ پاکستان تحریک انصاف، ایم ایم اے اور عوامی نیشنل پارٹی کی جانب پیش کی گئی، پاکستان تحریک انصاف کی رکن ڈاکٹر سمیرا شمس کی جانب سے ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ذہنی صحت کو بھی بنیادی صحت کی سہولیات میں شامل کیا جائے۔ ڈاکٹر سمیرا کے مطابق نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل کے حوالے سے خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے لیکن بدقسمتی سے صحت کے میدان میں یہ شعبہ سب سے زیادہ نظرانداز ہے۔

دوسری قرارداد متحدہ مجلس عمل کے ایم پی اے عنایت اللہ خان نے پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اپر دیرکی تحصیل براول میں ایک نیا گرڈ سٹیشن آبادی کے تناسب سے بنایا جائے۔ عنایت اللہ خان کا اس موقع پرکہنا تھا کہ تحصیل براول میں آبادی بڑھ گئی ہے لہٰذا براول میں ایک نیا گرڈ سٹیشن بنایا جائے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے ایم پی اے ملک بادشاہ نے اپنا قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جگہوں خاص طور پرپبلک پارکس، سکولوں، کالجز اور ہسپتالوں میں معذور افراد کی سہولیات کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔

Show More

جواب دیں

Back to top button
Close