قبائلی اضلاع میں اراضی تنازعات حل کرنے کا کام سول انتظامیہ کے سپرد

محکمہ بلدیات خیبرپختونخوا نے قبائلی اضلاع میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے قیام کےلئے محکمہ خزانہ کو مراسلہ ارسال کردیا ہے جبکہ حکومت نے قبائلی اضلاع میں تعینات سول انتظامیہ کو اپنے اضلاع میں بجٹ استعمال کرنے کا اختیار دے دیا۔

صوبائی حکومت کے بور آف ریوینیو اینڈ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے قبائلی اضلاع کو بورڈ آف ریوینیو کے دائرہ اختیار میں شامل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، تحصیلدار اور نائب تحصیلداروں کو اضافی اختیارات دے دیئے جنہیں قبائلی اضلاع میں علاقائی حدود کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی افراد، قبیلوں اور گروپوں کے مابین اراضی تنازعات کے مقدمات حل کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔

اس ضمن میں محکمہ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے 3 اعلامیئے جاری کردیئے گئے ہیں جس کے مطابق 31 جنوری کو صوبائی کابینہ کے منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ قبائلی اضلاع باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کو لینڈ ریوینیو ایکٹ 1967 کے تحت قرار دیا جائے۔

اس کے علاوہ قبائلی اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو کلکٹر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور تحصیلدارو کو گریڈ ون کے اسسٹنٹ کلکٹر جبکہ نائب تحصیلداروں کو گریڈ 2 کے اسسٹنٹ کلکٹرکے اضافی اختیارات تفویض کردیئے گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے مذکورہ افسران کو اپنے اپنے اضلاع اور تحصیلوں میں مقامی افراد، قبیلوں اور گروپوں کے درمیان زمینی تنازعات، علاقائی حدود کا تعین اور معاملات کے مقدمات حل کرنے کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہے۔

قبائلی اضلاع میں اراضی تنازعات کے حل کےلئے ملاکنڈ ڈویژن طرز پر بورڈ آف ریوینیو اینڈ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے تعین کردہ قوانین لاگو ہوں گے جبکہ ان اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز یا اسسٹنٹ ڈائریکٹرز لوکل گورنمنٹ کو پی اینڈ گائیڈ لائنز کے مطابق اپنے اپنے اضلاع میں بجٹ خرچ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

اسی طرح محکمہ لوکل گورنمنٹ نے سیکرٹری محکمہ خزانہ کے نام مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں قبائلی اضلاع میں تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے قیام کا مطالبہ کیا  گیا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button