قبائلی اضلاع

وظائف کی بندش اور داخلہ نہ  ملنے پر لنڈی کوتل ڈگری کالج کے طلبہ کا احتجاجی مظاہرہ

ٹی این این کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مظاہرے میں شریک شفاعت نامی ایک طالبعلم کا کہنا تھا کہ ابھی تک فرسٹ ائیر طلبہ کے سکالرشپ فارمز بھیجے گئے نہ ہی دیگر طلبہ کو وظائف دیے گئے جس کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔

قبائلی ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں گورنمنٹ ڈگری کالج کے طلبہ نے سکالرشپ اور کالج میں بی اے، بی اے سی داخلے کی بندش کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

کالج کے طلبہ نے آج تھوڑی دیر کیلئے پاک افغان شاہراہ بند کر دی تھی اور کالج کی انتظامیہ کیخلاف شدید نعرے بای کی۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مظاہرے میں شریک شفاعت نامی ایک طالبعلم کا کہنا تھا کہ ابھی تک فرسٹ ائیر طلبہ کے سکالرشپ فارمز بھیجے گئے نہ ہی دیگر طلبہ کو وظائف دیے گئے جس کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔

تھرڈ ائیر کے طالب علم سبحان علی نے ٹی این این کو بتایا کہ کالج انتظامیہ بی اے، بی اے سی میں داخلہ دینے سے انکاری ہے جبکہ بعض طلبہ بی ایس میں داخلہ نہیں لینا چاہتے کہ مالی مشکلات آڑے ہیں اس لیے لنڈی کوتل کالج میں بی اے، بی اے سی داخلوں کا آغاز کیا جائے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ طلبہ کے سکالرشپس پرنسپل کو موصول ہوئے ہیں تاہم وہ طلبہ کو ان کے وظائف جاری نہیں کر رہے۔

سبحان علی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ کالج کے طلبہ کیلئے لیپ ٹاپ بھی انتظامیہ کو فراہم کیے گئے ہیں ایک استاد نے جن پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے طلبہ کو ان سے محروم رکھا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تھرڈ ائیر پاس کرنے والے ڈھائی سو طلبہ کو بھی بی اے میں داخلہ نہیں دیا جا رہا جس کی وجہ سے انہیں مشکلات درپیش ہیں۔

دوسری جانب کالج کے پرنسپل شیربہادر کا ٹی این این کی جانب سے رابطے پر اس حوالے سے کہنا تھا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے بی ایس پروگرام کے اجرا کے بعد تھرڈ ائیر میں داخلے کی ممانعت کر رکھی ہے جبکہ سکالرشپ کی رقوم ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئیں ہیں جو تاحال موصول نہیں ہوئیں اور جونہی موصول ہوں گی طلبہ کو فراہم کر دی جائیں گی۔

بعدازاں اسسٹنٹ کمشنر محمد عمران نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ ان کے مطالبات پورے کیے جائیں گے جس کے بعد طلبہ پرامن طور پر منتشر ہوگئی اور شاہراہ ٹریفک کیلئے کھول دی گئی۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button