قبائلی اضلاع

افغانوں اور بنگالیوں کو شہریت دینے کا فیصلہ بجا مگر حکومت قبائلی عوام کے مسائل پر بھی توجہ دے۔ اے این پی باجوڑ

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں اے این پی باجوڑ کے صدر کا کہنا تھا کہ ضلع باجوڑ میں بلاک شناختی کارڈز کا معاملہ لٹکا ہوا ہے جس کی ایک وجہ کچھ عرصہ قبل تشکیل دی گئی کمیٹیوں کی جانب سے سست روی کا مظاہرہ بھی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی باجوڑ کے صدر ملک عطا اللہ خان کا کہنا  ہے کہ باجوڑ میں فوجی آپریشن کے دوران شک کی بنیاد پر بلاک کیے گئے 23 سو شناختی کارڈز فوری طور بحال کیے جائیں۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں اے این پی باجوڑ کے صدر کا کہنا تھا کہ ضلع باجوڑ میں بلاک شناختی کارڈز کا معاملہ لٹکا ہوا ہے جس کی ایک وجہ کچھ عرصہ قبل تشکیل دی گئی کمیٹیوں کی جانب سے سست روی کا مظاہرہ بھی ہے۔

ملک عطااللہ خان نے کہا کہ موجودہ دور میں شناختی کارڈ کی عدم موجودگی عوام کیلئے بے تحاشہ مسائل کا سبب بنتی ہے۔

انہوں نے کہا  کہ نادرا نے ایک مشتبہ فرد کے باعث پورے پورے خاندان کے شناختی کارڈز بلاک کیے ہیں جس کی وجہ سے عوام روز ناکوں اور دیگر کام سرانجام دیتے ہوئے خوار ہوتے رہتے ہیں۔

قبل ازیں اس سلسلے میں باجوڑ پریس کلب کے سامنے ملک عطاء اللہ خان کی قیادت میں ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا جس میں بلاک شناختی کارڈز کے حامل افراد نے شرکت کی۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ویری فیکیشن کے عمل میں تیزی لائے جائے اور ان کے بلک شناختی کارڈز جلد از جلد بحال کیے جائیں۔

مظاہرین سے اپنے خطاب میں ملک عطاء اللہ خان کا کنا تھا کہ ایک طرف وزیراعظم  عمران خان نے ملک میں مقیم افغان و بنگالیوں کو شناختی کارڈز اور پاسپورٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے تو دوسری طرف باجوڑ کے سینکڑوں لوگ بلاک شناختی کارڈز کی وجہ سے رل رہے ہیں۔

انہوں نے وزیراعظم کے اس اقدام کو لائق تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت حال ہی میں خیبر پختونخوا میں ضم کیے گئے قبائلی عوام کے مسائل پر بھی توجہ دے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل نادرا چیئرمین عثمان مبین نے کہا تھا کہ نادرا تین وجوہات کی بنیاد پر شناختی کارڈ بلاک کرتا ہے، ایک اس شخص کا جس نے اپنی ہی فیملی میں خود کو افغان خاندان کا فرد ظاہر کیا ہو، وہ جنہوں نے افغان مہاجرین کو وطن واپسی پر ملنے والی رقم ہتھیانے کیلئے خود افغان پناہ گزینوں میں شامل کیا ہو اور ایک اس شخص کا جس نے افغان پاسپورٹ حاصل کیا ہو۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button