قبائلی اضلاع

شمالی وزیرستان، گورنمنٹ پرائمری سکول بنگوکوٹ کے طلبہ کھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور

ٹی این این نمائندے کے مطابق 1964 میں تعمیرکردہ بنگو کوٹ پرائمری سکول کا برآمدہ محکمہ تعلیم نے ازسرنو تعمیر کرنے کیلئے مسمار کر دیا تھا جس کے ساتھ موسمی اثرات اور بارشوں کی وجہ سے سکول کا ایک اور کمرہ بھی گر گیا اور بچے ایک ہی کمرے میں پڑھنے پر مجبور ہوئے۔

سٹیزن جرنلسٹ دوست علی سے

قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں بدامنی اور اس کے خلاف ہوئے فوجی آپریشنوں کے دوران عوام کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے بھی بری طرح متاثر ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق آپریشن ضرب عضب کے موقع پر شمالی اور جنوبی وزیرستان میں 5 ہزار کے لگ بھگ سکول متاثر ہوئے جن میں سے 9 سو سکول تاحال عمارت کی عدم موجودگی اور سٹاف کی کمی کے باعث بند ہیں۔

تحصیل شوال کے علاقے بنگو کوٹ میں بھی پرائمری سکول کی عمارت نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کھلے آسمان تلے پڑھنے پر  مجبور ہیں۔

ٹی این این نمائندے کے مطابق 1964 میں تعمیرکردہ پرائمری سکول کا برآمدہ محکمہ تعلیم نے ازسرنو تعمیر کرنے کیلئے مسمار کر دیا تھا جس کے ساتھ موسمی اثرات اور بارشوں کی وجہ سے سکول کا ایک اور کمرہ بھی گر گیا اور بچے ایک ہی کمرے میں پڑھنے پر مجبور ہوئے۔

ایک کمرے پر مشتمل سکول میں دو اساتذہ علاقے کے 180 بچوں کو پڑھاتے ہیں۔

انتطامیہ کی جانب سے سکول کی ازسر نو تعمیر کیلئے آٹھ لاکھ روپے منظور کیے گئے تھے تاہم تاحال اس حوالے سے کسی طرح کے عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔

دوسری جانب محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ رواں ماہ جون میں مذکورہ سکول سمیت دیگر سکولوں کی نو آباد کاری کیلئے فاٹا سیکرٹریٹ کو فہرست دی گئی ہے تاہم تاحال انہوں نے فنڈز فراہم نہیں کیے جس کی وجہ سے بنگو کوٹ پرائمری سکول کے ساتھ ساتھ دیر سکولوں کا تعمیراتی کام تاخیر کا شکار ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button