قبائلی اضلاع

شمالی وزیرستان : تباہ شدہ گھریلو سامان کی خریدو فروخت کا روزگار، انتظامیہ خاموش تماشائی یا حصہ دار ؟

بنوں میں احتجاج کے دوران شمالی وزیرستان کے بے گھر متاثرین نے الزام لگایا ہے کہ ان کے تباہ کئے گئے گھروں اور دوکانوں کا سامان مارکیٹ میں سرعام فرووخت کیا جارہا ہے۔

ہفتے کو میرعلی کے قبائل ھرمز، موسکی اور حسوخیل نے اس بارے بنوں پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ انتظامیہ نے جن گھروں اور دوکانوں کا ملبہ اور سامان جس ٹھیکیدار کو فروخت کیا ہے وہ ٹھیکیداران دائیں بائیں کے دوکانوں سے بھی سامان نکال کر وہ سامان بنوں سمیت ملک کے دیگر شہروں  میں سرعام فروخت کیا جارہا ہے۔

ٹی این این سے بات کرتے ہوئے مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تجارت کو بند کرکے اس کا سدباب کیا جائے ” ہمارا سامان لاکر مارکیٹ میں سرعام نیلام کیا جارہا ہے جو کہ حکومت سے لئے باعث شرم ہے۔ ہم پچھلے روز یہ شکوہ گورنر سردار مہتاب احمد خان اور فاٹا اصلاحی کمیٹی کے دیگر ارکان سے بھی کیا تھا”۔

اس بارے انتظامیہ کا ابھی کوئی موقف سامنے نہیں آیا اور نہ ہی اس حوالے سے کسی سرکاری عہدیدار کا کوئی بیان دیکھنے میں آیا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button