قبائلی اضلاع

فاٹا یوتھ فیسٹیول میں بے قاعدگیوں کا انکشاف

قبائلی علاقوں کے طلبا اور مختلف تنظیموں نے گورنر یوتھ فیسٹیول میں کھلاڑیوں کو دی گئی ناقص سہولیات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ احتجاج میں کرم، مہمند، باجوڑ سٹوڈنٹس ارگنائزیشنز، وزیرستان سٹوڈنٹس سوسائٹی، خیبر سٹوڈنٹس یونین، اور فاٹا سٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلبا شامل تھے۔

پشاور پریس کلب کے سامنے سراپا احتجاج مظاہرین کا کہنا تھا کہ میلے میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کے لئے غیر معیاری ہوٹلوں میں قیام کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ خوراک اور دیگر اخراجات سمیت پورے دن کے لئے انہیں پانچ سو دیے جاتے ہیں جو انکے مطابق ان کے لئے ناکافی ہے۔ احتجاج میں شامل کھلاڑیوں نے الزام لگایا کہ ان کو دیے گئے کٹ ناقص اور ناکارہ ہے۔ کھلاڑیوں نے شکوہ کیا کہ فیسٹیول میں اٹھائیس کھیل اعلان کیے گئے تھے جبکہ اس میں صرف سولہ کھیلی جارہی ہیں۔ مظاہرین نے ٹی این این سے اپنے شکایات کچھ اسطرح بیان کیے “ پہلے دن سترہ سو کھلاڑیوں اور بارہ سو جوانوں کو اتنڑ کے لئے بلاکر سارا دن انہیں بھوکا رکھا۔ زیادہ تر کھلاڑی ناقص خوراک کھانے سے بیمار پڑگئے جو فیسٹیول چھوڑ کر متعلقہ علاقوں کو لوٹ گئے ہیں۔ ہمارے ثقافت سے متعلق ایک پروگرام ہوا تھا اس فیسٹیول میں اور اس میں بھی صرف بندوق دکھایا گیا تھا حالانکہ بندوق ہماری ثقافت نہیں ہے، ہماری ثقافت میں شملہ، ستار اور رباب بھی ہے”۔
تئیس دسمبر سے جاری فاٹا یوتھ فیسٹیول میں تمام قبائلی علاقوں سے سترہ سو کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button