قندیل بلوچ قتل کیس، عدالت سے فرارمفتی عبدالقوی گرفتار کر لیے گئے

ملتان کی سیشن عدالت سے عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست خارج ہونے کے بعد فرار ہونے والے مفتی عبدالقوی کو ملتان سے جھنگ جاتے ہوئے ہائی وے سے گرفتار کرلیا گیا۔

ایس پی کینٹ ڈاکٹر فہد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مفتی عبدالقوی کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

گذشتہ روز مفتی عبدالقوی پہلی مرتبہ سیشن جج چوہدری امیر احمد خان کی عدالت میں پیش ہوئے، جہاں ان کے وکیل نے دلائل کے لیے وقت طلب کیا، جس کے بعد سماعت 18 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی تھی۔

آج جب سماعت کا آغاز ہوا تو سیشن جج چوہدری امیر احمد خان نے مفتی عبدالقوی کی عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست خارج کردی.

اس سے قبل عدالت نے چند منٹ کے لیے درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا اور اسی دوران وکلاء نے مفتی عبدالقوی کو عدالت سے فرار کروا دیا اور اس طرح خلافِ روایت وہ میڈیا سے بات کیے بغیر عدالت سے چلے گئے۔

دوسری جانب سیشن جج نے تفتیشی افسر کو مفتی عبدالقوی کو گرفتار کرنے اور قندیل بلوچ قتل کیس کا چالان جلد عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز عدالت میں پیشی سے قبل میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ انہوں نے احکامات پر عمل کرتے ہوئے خود کو عدالت میں پیش کردیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘عدلیہ جو بھی فیصلہ کرے گی، ہم اسے تسلیم کریں گے’۔

یہ بھی یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے قندیل بلوچ کے کیس میں نامزد ملزم مفتی عبدالقوی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے، تاہم انہوں نے 17 اکتوبر تک ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی تھی۔

فیس بک ویڈیوز سے شہرت حاصل کرنے والی ماڈل قندیل بلوچ کو ان کے بھائی نے گذشتہ برس 15 جولائی کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا، جس کے بعد پولیس نے ماڈل کے بھائی وسیم کو مرکزی ملزم قرار دے کر گرفتار کیا تھا اور بعدازاں ان کے کزن حق نواز نے بھی گرفتاری دے دی تھی۔

دوسری جانب فیس بک اسٹار قندیل بلوچ کے ساتھ متنازع سیلفیز کو جواز بناکر ان کے والد عظیم کی درخواست پر رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن مفتی عبدالقوی کو بھی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 109 کے تحت اعانت جرم کے الزام میں مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔

Show More
Back to top button