خیبر پختونخواقومی

اقتصادی راہداری پر خیبر پختونخوا کے تحفظات بڑھ گئے

پشاور (ٹی این این) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ مشرقی راہداری کے ساتھ پورے شہر آباد کئے جارہے ہیں جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل سسٹم قائم کیا جائےگا ۔ اس سلسلے میں پنجاب حکومت 300 سٹوڈنٹس کو چینی زبان سیکھنے کیلئے چین بھیج رہی ہے اور یہ تمام کام وفاقی حکومت کے غیر معمولی اور غیر متوازن تعاون سے ممکن ہو رہا ہے جبکہ خیبرپختونخوا کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے ۔ خیبرپختونخو ا کی بجلی اور پانی کا حق بھی وفاقی حکومت چور ی کررہی ہے جبکہ بجلی کے خالص منافع کی مد میں خیبرپختونخوا کے 120 ارب روپے وفاقی حکومت کے ذمے واجب الادا ہیں ۔ منگل کے روز اسلام آباد میں پارٹی چیئرمین عمران خان کی قیادت میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ کا کہناتھاکہ خیبرپختونخوا حکومت پاک چین اقتصادی راہداری کے مسئلے پر پہلے سے زیادہ سخت مو¿قف اختیار کرےگی کیونکہ راہداری پر تحفظات کے سلسلے میں خیبرپختونخوا اسمبلی نے دو متفقہ قراردادیں منظور کی ہیں اور وزیراعظم کو خط بھی ارسال کیا گیا ہے جبکہ آل پارٹیز کانفرنسوں میں بھی وفاقی حکومت سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے تحفظات دور کرنے کے مطالبات کئے گئے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت آئے روز نئے منصوبے سامنے آرہی ہیں جو مشرقی روٹ پر شروع کئے جارہے ہیں اور ان منصوبوں کے تحت پنجاب سے گزرنے والے مشرقی روٹ کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایک نئی دُنیا اور متعدد نئے شہر آباد کرنے کے علاوہ صنعتی شہروں کے قیام کی خفیہ معلومات بھی سامنے آئی ہیں ۔ اجلاس میں سینٹ و قومی اسمبلی کے علاوہ خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی اراکین نے شرکت کی ۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے عوام کو ان تمام معاملات سے متعلق حقوق کی فراہمی میں نہ صرف ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے بلکہ ان کے بارے میں حقائق کو بھی خفیہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے ۔مغربی روٹ پر صرف ایک سٹرک تعمیر کرنے کا کوئی مقصد نہیں ہو گا بلکہ اقتصادی راہداری وہ شاہراہ تصور کی جائےگی جہاں اکنامک زون اور ان کے لئے بجلی کے منصوبے قائم کئے جائیں گے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، ریلویز اور گیس کی سہولیات موجود ہوں گی ۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button