الیکشن کےلئے تیار ہیں، سیاست کو کاروبار بنانے والوں سے عوام کو لڑنا ہوگا ، بلاول بھٹو زر داری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن کےلئے تیار ہیں، ملک کونااہل ، بزدل اور کرپٹ حکمرانوں سے نجات دلانے کا وقت آچکا ہے ، سیاست کو کاروبار بنانے والوں سے عوام کو لڑنا ہوگا ،حکومت کو قومی سلامتی کی نہیں ، پاناما کی پریشانی ہے ، عوام میاں صاحب اور ان کے چھوٹے بھائی سے نجات پانا چاہتے ہیں، ہمارے اوپر ایک ظالم حکمران مسلط ہے جس نے ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ،حکمران بتائیں کہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہا دی ہیں  عوام شہباز شریف کو پنجاب سے نکال کر دم لےں گے، میاں صاحب بہت خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی یہ کھیل نہیں کھیلنے دے گی ،آج تک نہ بھٹو اور نہ ہی بھٹو کے وارثوں کو انصاف مل سکا  عوام تیار ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی  نیشنل ایکشن پلان پر عملد رآمد نہ کرنےکی وجہ سے فوجی عدالتوں کی ضرورت پڑی  تمام معاملے کو دیکھنے کےلئے پارلیمانی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی بنائی جائے ۔ منگل کو گڑھی خدابخش میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ آج کادن پاکستان کی تاریخ کاسیاہ ترین دن ہے  آج کے دن جمہوریت کے بانی کو پھانسی دی گئی ¾آج کے دن متفقہ آئین اورعوامی حاکمیت کاتصوردینےوالےکوپھانسی دی گئی  آج کے دن مظلوم اور محکوم قوموں کے لیڈر کو پھانسی دی گئی  آج پوری قوم اشک بار ہے 30 سال گزرنے کے بعد بھی بھٹو کا نام عوام کو اشک بار کر دیتا ہے  آج بھی ہرزبان پر ایک ہی سوال ہے کہ بھٹوکوکیوں پھانسی پرچڑھایا گیا؟ آج بچہ بچہ جانتا ہے کہ بھٹو کا جرم یہ تھا کہ اس نے عوام سے سچا عشق کیا ،بھٹو نے عوام کو طاقتور بنانا چاہا، پاکستان کو آزاد خارجہ پالیسی دی، بھٹو نے سامراج کی غلامی سے نجاب دلائی، پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا،آج تک نہ بھٹو کو انصاف مل سکا اور نہ بھٹو کے وارثوں کو۔بلاول نے کہاکہ جمہوریت، امن، بچوں کے مستقبل، مضبوط دفاع کےلئے قربانی بھٹونے دیں،آخر کب تک بھٹو کو قتل کرتے رہو گے،کیا ابھی تک آپ کو معلوم نہیں ہوا کہ بھٹو ایک انسان کا نہیں نظرئیے اور جدوجہد کا نام ہے ¾ 40سال پہلے سامراج اور اس کے حواریوں نے بہت بڑی سازش کی،یہ حکمران عوام کی حمایت سے نہیں بلکہ دھونس اور دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں  ان کی نہ معاشی پالیسی ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی ہے، اندرونی وبیرونی محاذ پر یہ ناکام ہوچکے ہیں ۔

Show More
Back to top button