خیبر پختونخواقومی

جو کام نہ کرے وہ گھر جائیں‘ شہرام خان

پشاور (ٹی این این) خیبر پختونخواحکومت نے محکمہ صحت کے ملازمین پر واضح کردیا ہے کہ لازمی سروس ایکٹ کے تحت ایسوسی ایشن اور یونین کی کوئی حیثیت نہیں ‘ جو لوگ صوبائی اسمبلی کے پاس کردہ قوانین پر عمل درآمد نہیں کرسکتے اور قوانین سے کوئی مسئلہ ہے تو وہ استعفیٰ دیکر گھر بیٹھ جائے ان کے لئے نوکریوں کی کمی نہیں اور حکومت کیلئے محنتی ملازمین کی۔
صوبے کے تمام تدریسی ہسپتالوں کو خود مختار کیا ہے اور تمام ہسپتالوں کیلئے بورڈ آف گورنرز بنادئیے ہیں، تمام ہسپتالوں کو فنڈز جاری کرکے حکومت نے سرمایہ کاری کا آغا ز کردیا ہے۔
پیرکے روز پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیرصحت شہرام خان ترکئی کا کہناتھاکہ ان کا مقصد کسی پر دباؤڈالنا نہیں نہ ہی دھمکی دے رہے ہیں بلکہ صوبے کے عوام کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ شعبہ صحت میں کیا ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم ٹی آئی ایکٹ 2015ء پر خیبرپختونخوااسمبلی میں کئی بار بحث ہوئی ہے ۔ ایوان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں اور عوامی کے نمائندوں نے اس ایکٹ کو متفقہ طورپر پاس کیا ہے ۔
حکومت صحت میں اصلاحات لاکر اس شعبے میں بہتری لانا چاہتی ہے لیکن چند افراد ذاتی مفادات کیلئے ایکٹ کی مخالفت کررہے ہیں ، ایکٹ کی مخالفت کرنے والوں نے کئی بار ہڑتالیں کئے ہیں لیکن صوبائی حکومت نے کسی پر لاٹھی چارج یا انسو گیس نہیں پھینکا کیونکہ احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبہ سے وابستہ تمام ملازمین سے مذاکرات کرنے کو ترجیح دی ہے لیکن مفاد پرست لوگ صحت میں بہتری پر خوش نہیں ۔ چند لوگ ایکٹ کیخلاف کورٹ گئے تھے لیکن عدالت نے بھی صوبائی حکومت کے حق میں فیصلہ دیا جس کے بعد احتجاج کا کوئی جواز نہیں بنتا اگر کوئی احتجاج کریگا ۔ عدالت کا حکم نہ ماننے والے توہین عدالت کے مرتکب ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ بعض عناصر ایکٹ کے نفاذ کو پی آئی اے ملازمین کی ہڑتال سے مشابہت رے رہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پی آئی اے کو لازمی سروس ایکٹ بنانے کا فیصلہ ایوان میں نہیں ہوا بلکہ یکہ طرفہ فیصلہ ہے جبکہ دوسری جانب شعبہ صحت سے متعلق موجودہ ایکٹ خیبر پختونخوا اسمبلی میں کافی بحث کے بعد متفقہ طور پر پاس کیاگیا ہے۔ ان کا کہناتھاکہ آج ہونے والے ہڑتال میں پیرامیڈیکس نے شرکت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ شعبہ صحت کے ملازمین کی مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ کردیا گیا ہے جلد مزید بڑھائیں گے لیکن اس کے بدلے ڈاکٹروں سمیت تمام عملے کو مقررہ وقت تک اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے کرنا ہوگی ۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button