قبائلی اضلاعقومی

فاٹا کے سیاسی رہنماوں کا ایف سی آر کے خاتمے کا مطالبہ

پشاور(ٹی این این ) قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماﺅں اور اراکین قومی اسمبلی نے فاٹا سے فرنٹیئر کرائمزریگولیشن قانون کو مکمل ختم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوںنے کہا ہے کہ فاٹا ریفارمز کمیٹی میں قبائلیوں کی نمائندگی نہیںاورگورنر خیبرپختونخوا قبائلی عوام کے مسائل کی حل نہیں کر رہا۔
اس حوالے سے گزشتہ روز آرلائیوز لائبریری ہال پشاور میں پختونخوا اولسی تحریک کے زیراہتمام فاٹا کو درپیش مسائل اور چیلنجز پرگرینڈ قبائلی جرگہ منعقد ہوا ۔ شرکانے کہاکہ فاٹا میں انگریزدور کا ایف سی آر قانون مسلط ہے جس کا خاتمہ اب ضروری ہو چکاہے ، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قبائلی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے لیکن فاٹا کی ترقی کیلئے کوئی فنڈ نہیں دیا گیا اور وفاقی حکومت سمیت گورنر خیبرپختونخوا فاٹا کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں۔
شرکاءکا کہنا تھاکہ فاٹا ریفامز کمیٹی میں پنجاب سے تعلق افراد شامل ہیں اور وہ قبائلی عوام کے مسائل سے باخبر ہے ۔قبائلی رہنماﺅںنے کہاکہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں شامل کئے بغیر ان علاقوں میں امن قائم نہیں کیا جاسکتااورنہ ہی مسائل حل کئے جا سکتے ہیں اسلئے وفاقی حکومت فاٹا کو پختونخوا میں شامل کرنے کا جلد اعلان کرے۔
اس موقع پرایک مشترکہ اعلامیہ کے ذریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فاٹا ریفامرز کمیٹی میں قبائلی رہنماﺅں کو شامل کرکے وہاں پر رائج ایف سی آر کا مکمل خاتمہ کیا جائے ، فاٹا کی ترقی کیلئے پانچ سو ارب روپے پیکج کا اعلان کیا جائے ، آرٹیکل 247 میں ترامیم کرکے بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اورآئی ڈی پیز کی واپسی جلد مکمل کرکے دیگر مسائل حل کئے جائیں۔ انہوںنے اعلان کیا کہ ایف سی آر کے خاتمے اور فاٹا کو خیبرپختونخوا میں شامل کرنے کیلئے تمام قبائلی علاقوں میں مہم کا آغاز رواں مہینے کیا جائیگا۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button