قومی

چارسدہ یونیورسٹی پر حملے کے سہولت کار میڈیا کے سامنے پیش

پاکستانی فوجی حکام نے چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کرنے والوں کے چار ’سہولت کاروں‘ کو  میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ افغانستان سے ہی ہوا ہے۔ تاہم افغان حکومت کا نام اس میں نہیں لیا گیا ہے۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان سے پاکستان میں 10 کالیں آئیں۔ اس موقع پر ایک کال کی ریکارڈنگ بھی میڈیا کو سنوائی گئی اور بتایا کہ یہ کال افغان سم سے پاکستانی صحافی کو کی گئی تھی۔

اس موقع پر ایک سلائیڈ شو کے ذریعے میڈیا کو بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ چار حملہ آور اور چار سہولت کار تھے۔ انھوں نے بتایا کہ تمام لوگوں کی شناخت ہو گئی ہے اور کچھ لوگ پکڑے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وہاں سے پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے ایک سہولت کار (جسے اے کا نام دیا گیا ہے) کے ساتھ مردان آئے۔ اس مطلوب سہولت کار کا نام خفیہ رکھا جا رہا ہے۔

فوجی حکام کے مطابق ریاض، عادل اور نور اللہ، ابراہیم اور ضیا پکڑے جا چکے ہیں۔ بعد میں چار سہولت کاروں کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔

میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا  کہ یونیورسٹی میں کچھ عرصہ پہلے مستری کا کام کرنے والے عادل نامی سہولت کار اور ریاض نامی سہولت کار نے دہشت گردوں کو اپنے گھر میں پناہ دی۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ’یونیورسٹی کے باہر گنّے کے کھیت میں نوراللہ نامی سہولت کار نے دہشت گردوں کو رکشے کے ذریعے اتارا۔‘

 حکام کے مطابق عادل نامی شخص نے دہشت گردوں کو یونیورسٹی کا نقشہ سمجھایا۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ  دہشت گردوں کے لیے اسلحہ درہ آدم خیل سے لیا گیا اور اسلحہ لینے میں سہولت کار ’اے‘ جس کا اصل نام خفیہ رکھا گیا ہے اور کی بیوی اور بھانجی بھی استعمال ہوئی۔

انھوں نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے امیر رحمان کی نادرا کے ذریعے شناخت ہو چکی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے افغان صدر سے ہونے والے رابطے سےمتعلق کیے جانے والے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ یہ واضح ہے کہ حملہ افغاستان سے ہی ہوا ہے تاہم پاکستان نے یہ نہیں کہا کہ یہ حملہ افغان حکومت نے کروایا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پشاور میں آج آرمی چیف کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس ہورہا ہے جس میں چارسدہ حملے کے بعد ہونے والی تحقیقات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button