خیبر پختونخوا

کوئی دھمکی نہیں ملی تھی، وائس چانسلر باچا خان یونیورسٹی

چارسدہ(ٹی این این)باچا خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فضل رحیم مروت نے کہا ہے کہ حکومت اور دہشت گردوں کی طرف سے یونیورسٹی پر حملے کے حوالے سے کوئی اطلاع یا دھمکی نہیں ملی تھی ۔ باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے کے دوارن یونیورسٹی کے گارڈز ،طلباءاور اساتذہ نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا ورنہ اے پی ایس سانحہ سے زیادہ تباہی ہوتی ۔
یونیورسٹی میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں اورسکیورٹی گارڈز کے پاس دیسی اسلحے کے حوالے سے افواہیں بے بنیاد ہیں ۔
میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر فضل رحیم مروت نے کہا کہ 20جنوری کو حملے کے وقت شدید دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی کے اندر داخل ہوئے اور بس کو آگ لگادی جس کے بعد انہوں نے کک کو مارا ۔
مجموعی طور پر 56 سکیورٹی گارڈ یونیورسٹی کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں اور حملے کے وقت 21 گارڈز موجود تھے ۔
انہوں نے یونیورسٹی کے طلبہ کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کی سکیورٹی کو کسی صورت فوج کے حوالے نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے یونیورسٹی کے سیکورٹی گارڈز کو یونیورسٹی کی طرف سے خصوصی انعامات دینے کا بھی اعلان کیا ۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button