خیبر پختونخوا

کہاں گئے وہ لوگ جودہشتگردی کوجہادکانام دیتے تھے؟

پشاور(ٹی این این)عوامی نیشنل پارٹی ولی کے چیئرپرسن بیگم نسیم ولی خان نے کہاہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے ایک بھی نقطے پر عمل درآمد نہیں کیاجارہاہے کہاں گئے وہ لوگ جودہشتگردی کوجہادکانام دیتے تھے ۔
چارسدہ میں یونیورسٹی پر حملہ باچاخان کے اس فلسفے پر حملہ ہے جواس نے پختون قوم کو بتایاتھاکہ عدم تشدد کارویہ اور علم کا حصول ہرصورت میں ممکن بناﺅ

۔پشاورپریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیگم نسیم نے کہاکہ دہشتگرد تعلیم کا راستہ روکنے کےلئے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنارہے ہیں لیکن بتایاجائے کہ دہشتگردی کاآغازکہاں سے ہوا ضیاءالحق جواپنے آپ کو سب سے اچھا مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کررہے تھے اور پختونوں کو کیمپوں میں بھرتی کرکے جہادکے نام پر دوسرے ملکوں کو بھجواتے تھے تویہ یاد رکھناچاہیے کہ جب تم پڑوسیوں کے ملک میں آگ لگاﺅگے توجواب میں وہ پھول نہیں بھیجیں گے ۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی آزادخارجہ پالیسی نہ ہونے کے باعث ہم امریکہ کے غلام ہیں اورپورے کھےل کامیدان صرف امریکہ کا سجایاہواہے حکمران یہ سمجھنے سے قاصرہیں کہ پاکستان کے چار صوبے ہیں رنگ برنگی بسیں اور چمک صرف ایک علاقے تک محدود ہے لیکن میں یہ پوچھتی چلوں کہ دہشتگردوں کی جوتنظیمیں پنجاب میں ہیں وہ آج تک کیوں آزادہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button