خیبر پختونخوا

باچاخان یونیورسٹی پر حملے کرنیوالوں کا پتہ چل گیا: پاک فوج کا دعوٰی

پاک فوج نے باچا خان یونیورسٹی پر حملے کرنے والے عسکریت پسندوں سے متعلق اہم معلومات حاصل کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔ بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ چارسدہ کے باچا خان یونیورسٹی پر حملے کرنے والے چار افراد تھے جو مسلسل موبائل کے زریعے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں تھے جبکہ آپریشن میں مارے جانے کے بعد بھی ایک عسکریت پسند کے موبائل پر کالز آرہی تھیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ان عسکریت پسندوں کے ساتھ افغان سم تھے اور ان کی کالز سے اہم معلومات حاصل کرلی گئی ہیں جبکہ ان کے فنگر پرنٹس بھی شناخت کے نادرا بھیج دئے گئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق عسکریت پسندوں کے داخل ہوتے ہی یونیورسٹی گارڈز اور پولیس نے ان کا مقابلہ کیا لیکن یہ مزاحمت دیر پا نہ رہ سکی جبکہ فوج کے آنے پر چاروں شدت پسندوں کو بوایئز ہاسٹل کی چت اور سیڑھیوں میں مارا گیا۔ عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ یہ دہشت گرد کون تھے ، کہاں سے آئے تھے  اور  ان کے روابط  کس کے ساتھ ہیں ان کے ان سب سوالوں کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہوئی ہیں لیکن فی الحال ان معلومات کو شئیر نہیں کیا جاسکتا۔

دوسری جانب جمعرات کو باچا خان یونیورسٹی میں ہونے والے المناک حادثے کے غم میں پورے ملک میں سوگ منایا جارہا ہے۔ اس بارے نہ صرف ملک کے اندر سرکاری عمارتوں پر بلکے بیرونی ممالک میں واقع پاکستانی سفارتخانوں پر بھی قومی جھنڈہ سرنگوں رہا ہے۔ باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والے اس حملے کے خالف بدھ کو سوات پریس کلب کے سامنے عوامی نیشنل پارٹی کے ورکرز نے احتجاج کرتے ہوئے  الزام لگایا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی ہے۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حملے میں ملوث افراد کو عوام کے سامنے لایا جائے اور ان کو کھری سے کھری سزا دی جائے۔

گزشتہ روز چارسدہ کے سرڈھیرو تھانے کے حدود میں واقع باچا خان یونیورسٹی پر چار شدت پسندوں نے علی الصبح حملہ کرکے یونیورسٹی کے اندر اندھا دھن فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں اکیس افراد جاں بحق اور تیس زخمی ہوئے ہیں۔ جاں بحق افراد میں انیس طلبا اور دو اساتذہ شامل ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button