خیبر پختونخوا

کوہستان قومی اتحاد نے حکومت کا مجوزہ ٹیکس مستر د کردیا

سوات سے شائستہ حکیم

کوہستان قومی اتحاد جرگہ نے حکومت کے طرف سے ٹیکس کی تجویز مستر د کردی ، جائیداوں پر کاشت کاری اورملکیت نہ دینے پر حکومت کے خلاف ہرقسم کی احتجاج  کرنے کی دہمکی دے دی۔ سوات گراسی گراونڈ میں انڈس کوہستان، کالام کوہستان اور دیر کوہستان کے بڑی تعداد میں عمائدین کا گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس کی صدارت انڈس کوہستان کے مشر ملک سعید احمد خان نے کی ۔

   جرگے سے خطاب کرتے ہوئے ملک سعید احمد خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلے 2002 میں اور پھر 2013میں قوم کے مفادات کے خلاف پالیساں بنائیں جن کے تحت کوہستانیوں پر اپنے ہی علاقے میں کاشت کاری پرپابندی عائد کردی گئی، مویشوں کے چراہ گاہوں کو بند کردیا گیا،  اور اپنے ہی جائیداد میں مراعات یافتہ کہلاتے ہیں اور ان کے جنگلی پیداوار، اخروٹ، چلغوزہ اورکھمبی پر ٹیکس لگائے جارہے ہیں جوکہ کوہستان قوم کو قابل قبول نہیں ۔ جرگے کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں وہ حکومت کے خلاف احتجاج کرینگے۔

 قومی کونسل تحصیل کالام کے صدر ملک زرین کا کہنا تھا کہ حکومت مختلف حربے استعمال کرکے ہم پر ٹیکس لگانا چاہتی ہے مگر یہ علاقہ ٹیکس سے مستثنٰی ہے اور کسی بھی صورت یہ ٹیکس قابل قبول نہیں ۔ جرگے کے مطابق  حکومت ان کے جنگلات سے چالیس فیصد منافع لے رہی ہے جبکہ اس کے بد لے ان کو کچھ بھی نہیں دیا جارہا۔ جنگلوں میں آگ لگنے کی صور ت میں قوم ہی ان کو بجاتی ہے حکومت کوئی تعاون نہیں کررہی۔ سوات میں ہونے والے اس جرگے نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے کوہستان دشمن پالیساں ترک نہ کیں تو لاکھوں کوہستانی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کیلئے تیارہیں۔

تحصیل کالام کے ناظم حبیب اللہ ثاقب نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے طور حکومت کو کوہستان قوم کی تحفظات سے آگاہ کردیا ہے مگر بعض حکومتی ارکان اور عوامی نمائندے کوہستان قوم کے تحفظات کو سننے کو تیارنہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کالام کے لوگ اپنے حقوق کے لئے متحد ہے اور انڈس کوہستان اور دیر کوہستان ان کے ساتھ اب ملکر اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرینگے۔ دیر سے تلعق رکھنے والے لالامحمد خان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے جنگلات کے رائلٹی پر جو پالیسی بنارکھی ہے وہ قابل قبول نہیں ۔ ان کے مطابق  بظاہر توانہوں نے قوم کے لئے تیس فیصد رائلٹی رکھی ہے مگر مختلف قسم کی کٹوتیاں کرکے یہ رائلٹی پندر فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ اس موقع پر جرگے نے متعدد قراردیں پاس کی جن میں محکمہ جنگلات کے طرف سے بے جا دخل اندازی بندکرنا، چراہاگاہوں پرعائد پابندی اٹھانا ، ہرقسم کے ٹیکس کو مسترد کرنا اور کوہستانی قوم کے لئے مالکانہ حقوق پر پالیسی بنانا شامل ۔ہے

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button