خیبر پختونخوا

خاتون ٹریفک پولیس ڈی ایس پی عصمت آرا خواتین کے لئے مثال

ہمارے معاشرے میں عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ سیکورٹی اور محکمہ پولیس کی نوکری مردوں کا کام ہے اور خواتین کو اس میدان میں کھودنے سے روک ٹوک کر منع کیا جاتا ہے اور یہ تاثر اس وقت زور پکڑتا ہے جب پختونوں کے معاشرے میں کوئی خاتون اس میدان میں قدم رکھنے کا سوچتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان کوئی بڑا کام کرنے لگا ہے اور جب بھی انسان نے معاشرے کے فرسودہ روایات کے خلاف بغاوت کی صدا بلند کی ہے تو اسے روکنے میں سارہ زمانہ ناکام ہوا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال خیبر پختونخواہ کی پہلی خاتون ٹریفک ڈی ایس پی عصمت آرا نے قائم کی ہے۔ صوابی سے تعلق رکھنے والی اس خاتون ڈی ایس پی  نے محکمہ پولیس میں قدم کیسے رکھا، کون سے محرکات ہیں جو اس وجود زن کو یہاں تک لانے میں فعال ہیں  اور اس مقام تک پہنچنے میں محترمہ کو کن مراحل سے گزرنا پڑا، جی ہاں یہ ایسے سوالات ہیں جو ہر قاری کی زباں پر ہیں اور انہیں سوالوں کے جواب عصمت آرا کے زبان سے سننے کے لئے ٹی این این کے نمائندہ خصوصی نبی جان اورکزئی نے ان سے ایک نشست کی ہے، ملاحظہ فرمائیں۔

ٹی این این : کیا وجہ تھی جو آپ نے پولیس محکمہ اپنے کیریر کے لئے چنا ؟

جب میں کالج میں تھی تو تب ہمارے کالج میں این سی سی ٹریننگ ہوا کرتی تھی جس میں میں نے پہلی پوزیشن لی تھی۔  اسی وقت سے میرے گھر والے مجھے کہتے تھے کہ تم جو فائرنگ میں پہلی پوزیشن لی ہے تو تمہارا رجحان یا تو پولیس کی طرف ہے اور یا آرمی کی طرف۔ میں جب محکمہ پولیس میں آئی تو یہ میرے لئے ایک نیا تجربہ تھا کیونکہ مجھے اس محکمے سے متعلق کوئی پیشگی معلومات نہیں تھیں۔ دوسری جانب گاؤں میں رہنے والی خاتون کے لئے شہر میں پولیس کی نوکری کرنا بھی ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ جب میں نے چارج لیا تو میرے ساتھ تھانے میں دو خواتین انسپکٹر خواندہ تھیں جبکہ باقی عملہ انڈر میٹرک تھا اور یہاں خواتین پولیس پروموشن کا کائی تصور نہیں تھا۔ تب میں نے ٹان لی کہ پہلے تو میں اس محکمے کی حالت ٹھیک کرونگی۔ میرے ساتھ اس جدوجہد میں میرے ساتھی خواتین پولیس بھی تھیں اور ہم نے مل کر ایک کوشش شروع کی۔ ہم نے محکمے میں تعلیم یافتہ خواتین کو بھرتی کروایا اور ہماری ان ہی کوششوں کے اعتراف میں خواتین کے لئے پولیس میں اور عہدے بھی متعارف کئے گئے جبکہ اس سے قبل چند مخصوص پوسٹیں تھیں جس میں سب سے سینئیر خاتون اہلکار کو ترقی دی جاتی تھی۔ خواتین پولیس کے لئے کوئی سروس سٹرکچر نہیں تھا لیکن جب تعلیم یافتہ خواتین نے اس محکمے کا رخ کیا تو ترقیاں بھی ملنی شروع ہوگئی اور اب مرد و خواتین اہلکاروں کو ایک جیسی ترقی دی جاتی ہے۔

ٹی این این : کیسے لگتا ہے صوبے کی پہلی خاتون ٹریفک ڈی ایس پی کا اعزاز ساتھ لیکر فرائض منصبی انجام دینا ؟

یہ عہدہ مجھے ابھی ابھی ملا ہے اور میرے لئے باعث فخر بھی ہے اور اس اعزاز سے میں بہت خوش ہوں۔ یہ بڑا عہدہ ہے اور میں جس عزت و مقام کے لئے لب بہ دعا تھی مجھے وہی ملا ہے۔

ٹی این این : آپ کی ڈیوٹی آفس اور روڈ دونوں جگہ پر ہوتی ہے، مشکل تو ہوتی ہوگی ؟

ظاہر سی بات ہے کہ مشکلات ہیں لیکن یہ میرے عہدے کا تقاضا ہے کیونکہ میں ایک جگہ تک محدود نہیں رہ سکتی اور اسکے علاوہ بھی اگر مجھے محکمے کی جانب سے کوئی اور فرائض سونپے جاتے ہیں تو میں خوش اسلوبی سے سرانجام دونگی۔

ٹی این این : جب عصمت آرا وائلیشن کرنے پر کسی کو چالان دیتی ہے تو قانون شکنوں کا رویہ کیسا ہوتا ؟

یہ بات خوش آئند ہے کہ ہمارے صوبے کے عوام میں کافی شعور آگیا ہے اور تعلیم کی شرح بڑھنے سے سلجھے ہوئے لوگوں میں اضافہ ہوا ہے اور لوگوں کے رویوں میں کافی مثبت تبدیلی آئی ہے۔لیکن جو ناخواندہ حضرات ہیں تو انکا رویہ تو مرد وارڈنز کے ساتھ بھی ٹھیک نہیں ہوتا تو میں کیا شکوہ کرونگی۔ اگر آپ دیکھیں تو آج کل خواتین میں ڈرائیونگ کا رجحان بڑھ رہا ہے اور اگر ان کو روڈ پر ایک بھی خاتون ٹریفک وارڈن ملے اور ان کو ٹریفک قوانین سمجھائے یا ان کو ان کو انکی غلطی بتایے تو کیا یہ بہتر نہیں ہوگا بنسبت مرد ٹریفک وارڈن کے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button