"پہاڑوں کی چوٹیوں پر سفید برف دیکھکر لطف نہیں خوف آتا ہے”

چترال کی 34 وادیوں میں سے 19 میں گلیشیئرز ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق ضلع بھر میں کل 543 گلیشیئرز ہیں جن میں سے کئی موسمی تغیرات کے باعث نہ صرف خود خطرے سے دوچار ہیں بلکہ ان کی وجہ سے مقامی آبادی کے سر پر بھی خطرے کی تلوار مستقل لٹک رہی ہے۔

گل حماد فاروقی سے

"2005 میں سیلاب کی وجہ سے اپنے آبائی علاقے بریپ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور کاٹن لشٹ علاقے میں جاکر آباد ہوئے لیکن 2012 میں کاٹن لژٹ میں بھی قدرتی آفت سے دوبارہ متاثر ہوئے اور اب (ہم) بونی میں رہائش پذیر ہیں۔”

چترال سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ صابرہ بی بی کہتی ہیں کہ بریپ میں سیلاب نے لاکھوں روپے مالیت کا ان کا دستکاری مرکز تباہ کر دیا تھا جو ان کی فیملی کا واحد ذریعہ آمدن تھا جبکہ کاٹن لشٹ میں سیلاب ان کے تمام مال مویشی بہا کر لے گیا۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں صابرہ بی بی کا کہنا تھا کہ (وہ) اب بھی خطرے سے دوچار ہیں کیونکہ اوپر پہاڑوں پر پڑی برف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پگھل رہی ہے اور کسی بھی وقت ایک اور سیلاب آسکتا ہے۔

چترال کے ہزاروں سالہ پرانے برف کے پہاڑ یعنی گلیشیئرز گزشتہ کچھ عرصہ سے پگھلنا شروع ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے مقامی آبادی کو خطرات لاحق ہیں۔

گلیشئرز کے پگھلنے کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ علاقے میں گرمی کی شدت میں اضافہ، بارشوں اور برفباری کے موسم میں تغیر اور جنگلات کی کٹائی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔

چترال کی 34 وادیوں میں سے 19 میں گلیشیئرز ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق ضلع بھر میں کل 543 گلیشیئرز ہیں جن میں سے کئی موسمی تغیرات کے باعث نہ صرف خود خطرے سے دوچار ہیں بلکہ ان کی وجہ سے مقامی آبادی کے سر پر بھی خطرے کی تلوار مستقل لٹک رہی ہے۔

محولہ بالا وجوہات کی وجہ سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار علاقوں میں سے ایک وادی بریپ گول بھی قرار دی جاتی ہے، ماحولیاتی امور کے ماہر حامد احمد میر کے بقول بریپ گول کو 2013  سے ہر سال گرمیوں میں گلیشیئرز پگھلنے کی وجہ سے سیلابی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے جس میں 2015 کا سال سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوا تھا۔

اس سے قبل 2005 کے سیلاب کی وجہ سے متاثرہ اس وادی سے 26 خاندانوں نے کاٹن لشٹ نقل مکانی کی تھی تاہم 2012 میں صابرہ بی بی کی طرح دیگر تمام خاندان ایک بار  سیلاب سے متاثر ہوئے اور اب دیگر مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔

 

بریپ گول کے حوالے سے محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس چترال کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ 2013 کے بعد سے اب تک سیلابوں کی وجہ سے اس وادی کے 32 افراد جاں بحق ہوئے۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں محکمہ کے ایگزیکٹیو انجینیئر مقبول اعظم کا کہنا تھا کہ وادی بریپ میں مسلسل پانچ سالوں تک سیلابوں کی وجہ سے 500 کے قریب مکانات، مختلف علاقوں میں 27 سڑکیں، 28 سکول، 50 سے زائد چھوٹے اور بڑے پل، 50 سے زائد آبی سکیمیں، 80 نہریں، ساڑھے چار سو باغات اور سینکڑون جریب زرعی زمین تباہ ہوئی۔

حامد احمد میر چترال میں حکومت اور یو این ڈی پی کی جانب سے گلوف GLOF (گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ) نامی پراجیکٹ کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ گلیشیئرز پگھلنے کے بعد اوپر پہاڑوں میں جھیل کی صورت اختیار کر لیتے ہیں جو زیادہ بارش یا گرمی کے باعث پانی کی مقدار میں اضافے کی وجہ سے سیلاب کی صورت نیچے بہنے لگتا ہے اور عوام عموماَ اس طرح کے سیلابوں کے لیے جسمانی طور پر تیار ہوتے ہیں نہ ذہنی طور پر جس کی وجہ سے زیادہ مالی اور جانی نقصان اٹھا لیتے ہیں۔

حامد خان کے مطابق چترال میں اس وقت 187 ایسے گلیشیئرز ہیں جو گلیشیئل لیک یعنی پگھلنے کے بعد پہاڑوں کے دامن میں بڑی بڑی جھیلوں یا جوہڑوں کی شکل اختیار کرچکے ہیں جن میں سے 20 کو انتہائی خطرناک قرار دیا جارہا ہے جو بارشوں کی صورت یا گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ سیلاب کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔

ان کے بقول 2015 میں سیلاب کے باعث زیادہ نقصان کی وجہ بھی یہی تھی کہ گلیشیئرز کا پانی بہہ جانے کی وجہ سے اس سیلاب کی شدت میں اضافہ ہوا تھا۔

جولائی 2015 میں آئے اس سیلاب کے باعث چترال میں 35 افراد جاں بحق جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس سیلاب کی وجہ سے ضلع کا آدھے سے زائد انفراسٹرکچر تباہ ہوا جس میں بیسیوں تعیمی ادارے، ہسپتال، بجلی گھر، سینکڑوں میل طویل سڑکیں، پل، اور سینکڑوں مکانات تباہ ہوئے اور ہزاروں لوگ بےگھر ہوئے۔

2015 کے سیلاب کے بعد پی ڈی ایم اے نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ چترال میں ہوئے نقصانات کے ازالے اور انفراسٹرکچر کی بحالی پر 8 ارب روپے سے زائد کی لاگت آئے گی۔

خطرات سے دوچار گلیشیئر نہ صرف سیلاب کا باعث بنتے ہیں بلکہ وقتاَ فوقتاَ ان سے برفانی تودے بھی گرتے اور زیاں کا سبب بنتے ہیں۔

حامد احمد میر کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران برفانی تودوں کے گرنے اور نتیجے میں جانی و مالی نقصانات کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سیلاب اور قدرتی آفات سے خصوصاَ بچے اور خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ صابرہ بی بی کے دو بچوں کی بھی پہلی بار نقل مکانی کے بعد چند ماہ پڑھائی متاثر ہوئی تھی جبکہ دوسری بار سیلاب آنے اور اس کی وجہ سے سکول مکمل طور پر تباہ ہونے کی وجہ سے ان کا سلسلہ تعلیم مستقل طور پر بند ہوگیا۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں صابرہ بی بی کا کہنا تھا کہ پڑھائی چھوٹنے پر بڑا بیٹا محنت مزدوری جبکہ چھوٹا مویشی چراتا ہے اور یہی ان کے گھر کا چولہا جلائے رکھنے کا ذریعہ بھی ہے کیونکہ ان کے خاوند معذور ہیں۔

چترال سلسلہ کوہ ہندو کش میں آباد ضلع ہے بعض محققین کے مطابق جہان کے گلیشیئرز پانچ ہزار سال پرانے ہیں۔

حامد احمد میر کی ایک تحقیق کے مطابق ہندوکس کے پہاڑی سلسلے میں پڑے گلیشیئرز سے سیلابوں کی آمد تاریخ بھی تقریباَ ساڑھے تین سو سال پرانی ہے تاہم گزشتہ صدی کے اواخر سے اس میں تیزی آئی ہے اور یہ گلیشیئرز ہر سال 40 سے 60 میٹر تک پگھلتے ہیں جو بڑی ہی خطرناک صورتحال ہے۔

حامد احمد کہتے ہیں کہ گلیشیئرز کے پگھلنے کا سلسلہ اتنی تیزی سے جاری ہے کہ آنے والے برسوں میں 2015 جیسے سیلابوں اور آفات کا بھی خدشہ ہے۔

بقول ان کے گلیشیئرز کے پگھلنے سے نہ صرف وجودہ وقت میں جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ اس سے آنے والی نسل کیلئے بھی پینے اور دیگر استعمال کیلئے پانی کے ذخائر ختم ہوتے ہیں۔

صابرہ بی بی کی طرح شیراکبر بھی ایک بار بریپ اور پھر کاٹن لشٹ میں سیلاب سے متاثر ہوئے ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں جن کا کہنا تھا کہ بار بار کی نقل مکانی سے وہ تنگ آگئے ہیں کیونکہ دو بار متاثر ہونے کے بعد اب نہایت کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

شیراکبر کہتے ہیں کہ وقت اب آگیا ہے کہ حکومت چترال میں سیلابوں خصوصی طور پر گلیشیئرز کے کھسکنے یا پگھلنے کی وجہ سے آنے والے سیلابوں کی روک تھام کیلئے اقدامات کرے اور عوام کو تحفظ دے۔

دوسری جانب ماہر ماحولیات اور زرعی یونیورسٹی پشاور میں درس و تدریس سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر اکمل کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک کے دیگر حصوں کی طرح چترال بھی ماحولیاتی تبدیلی سے بہت متاثر ہوا ہے۔

ٹی این این کے ساتھ گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پچھلے چند سالوں کے دوران چترال میں گرمی کی شدت میں نہ صرف ایک سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے بلکہ بارشوں اور برفباری کے وقت اور انداز بھی بدل گئے ہیں جس کے گلیشیئرز پر واضح اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اب نومبر اور دسمبر کی بجائے جنوری اور فروری میں برفباری کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور مارچ اپریل میں ایکدم گرمی آنے سے یہ برف پگھلنا شروع ہوجاتی ہے اور ماضی کی طرح جم کر گلیشیئرز کی شکل اختیار نہیں کرتی۔

اسی طرح بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی کے ساتھ گزشتہ کچھ سالوں سے تیز اور طوفانی بارشیں بھی شروع ہو گئی ہیں جو گلیشیئرز کیلئے خطرناک ہوتی ہیں جس سے نہ صرف گلیشیئرز نیچے آتے ہیں بلکہ ان کے باعث بنی جھیلیں بھی ٹوٹ کر نیچے علاقوں کی طرف سیلابی ریلوں کی صورت بہنا شروع ہوجاتی ہیں۔

شیراکبر کہتے ہیں کہ ماضی میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف نظر آتی تو اس سے لطف اندوز ہوتے لیکن اب کاٹن لشٹ کے پہاڑون پر سفید برف نظر آتی ہے تو انہیں خوف محسوس ہوتا ہے۔

Show More

جواب دیں

Back to top button
Close