خیبر پختونخوا

ساڑھے 4 لاکھ آبادی والا ضلع چترال آئی سپیشلسٹ سے محروم، سینکڑوں افراد امراض چشم میں مبتلا 

عوام کی پریشانیوں کو دیکھ کر فلاحی ادارے اُمہ ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں دو روزہ فری آئی کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔

گل حماد فاروقی

خیبرپختونخوا کا ضلع چترال گزشتہ 2 سالوں سے امراض چشم کے ڈاکٹر سے محروم ہے، عوام کی پریشانیوں کو دیکھ کر فلاحی ادارے اُمہ ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں دو روزہ فری آئی کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس کے دوران 200 مریضوں کے آنکھوں کا مفت آپریشن کیا گیا جبکہ دیگر مریضوں کو ادویات اور عینکیں بھی مفت فراہم کی گئیں۔

کیمپ میں شامل آئی یونٹ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کے رجسٹرار ڈاکٹر اسرار نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال چترال میں دو روزہ فری کیمپ کے دوران 200 مریضوں کا آپریشن کیا گیا اور اب بالائی چترال کے علاقہ بونی میں فری میڈیکل کیمپ قائم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ چترال میں سفید موتیئے کے مریض بہت دیکھے گئے اور یہاں اس کیمپ میں جتنے بھی مریض آئے ان کی آنکھوں میں سفید موتیا تھا۔ یہ علاقہ اونچائی پر واقع ہے جہاں دھوپ بھی تیز ہوتی ہے جبکہ مٹی گرد و غبار بھی آنکھوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لوگوں کو چاہیئے کہ قدرت کے اس انمول تحفے یعنی آنکھوں کی حفاظت کرے جس کیلئے دھوپ میں جاتے ہوئے کالے رنگ کے عینک لگائے اور مٹی و گرد گرنے کی صورت میں آنکھوں کو صاف پانی سے دھوئے اور خوراک میں سبزیاں اور پھل استعمال کرے جس سے نظر تیز ہوجاتی ہے۔

کیمپ میں شامل لیڈی ڈاکٹر افشاں نے کہا کہ خواتین کی آنکھوں میں زیادہ تر بیماری پائی گئی جس کی بنیادی وجہ باورچی خانہ میں کام کرتے ہوئے آنکھوں میں دھواں جانا ہے، انہوں نے کہا کہ خواتین کو چاہیئے کہ کھانا پکاتے وقت آنکھوں کو دھویں (سموک) سے بچائے اور آنکھوں کو صاف رکھا کرے۔

فری آئی کیمپ میں اپنے ضعیف والد کو آپریشن کےلئے لانے والے ایک مقامی شحص اعجاز احمد نے بتایا کہ چترال میں آنکھو ں کے مریض ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں مگر یہاں پچھلے دو سالو ں سے آئی سپیشلسٹ نہیں ہے ڈاکٹر محبوب حسین ریٹائرڈ ہوگیا جس کے بعد کوئی دوسرا ڈاکٹر نہی آیا۔

انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ چترال ہسپتال میں فوری طور پر آئی سپیشلسٹ ڈاکٹر تعینات کرے تاکہ عوام کو علاج کیلئے پشاور جانا نہ پڑے۔

خیال رہے کہ سال 2017 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق ضلع چترال کی آبادی 4 لاکھ 47 ہزار 362 ہے جہاں مقامی افراد کے مطابق کوئی بھی ماہر امراض چشم نہیں ہے جس کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامان کرنا پڑتا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button