خیبر پختونخوا

پی کے 53 انتخابی نتائج ایک بار پھر مسترد، اے این پی مردان کا الیکشن کمیشن کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

مظاہرے کے بعد مردان پریس کلب میں پریس کانفرنس کے موقع پر احمد بہادر کا کہنا تھا 14 اگست کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں کامیابی کی اطلاع دی گئی تاہم بعدازاں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی کامیابی کا اعلان کیا گیا جو الیکشن کمیشن کے قوانین کی رو سے ایک غیرقانونی اقدام ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی نے پی کے 53 مردان میں ضمنی انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

اے این پی کے ضلعی صدر حمایت اللہ مایار اور پی کے 53 کیلئے پارٹی امیدوار احمد بہادر کی قیات میں ہوئے مظاہرے کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر الیکشن کمیشن کیخلاف نعرے درج تھے۔

مظاہرے کے بعد مردان پریس کلب میں پریس کانفرنس کے موقع پر احمد بہادر کا کہنا تھا 14 اگست کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں کامیابی کی اطلاع دی گئی تاہم بعدازاں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی کامیابی کا اعلان کیا گیا جو الیکشن کمیشن کے قوانین کی رو سے ایک غیرقانونی اقدام ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی درخواست پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے قبل ہی الیکشن کمیشن کے دفتر میں بیلٹ باکس کھولے گئے تھے۔

احمد بہادر کے مطابق الیکشن کمیشن ملک کی حکمران جماعت کے ساتھ ملا ہوا ہے اس لیے اِنہیں شکست جبکہ تحریک انصاف کو فتح سے نوازا گیا۔

انہوں نے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پی کے 53 میں الیکشن دوبارہ کروائے جائین بسورت دیگر وہ الیکشن ٹربیونل سے رجوع کریں گے۔

یاد رہے کہ 14 اگست کو الیکشن کمشنر مردان رؤف خان کی جانب سے پی کے 53 کے 131 پولنگ سٹیشنوں میں سے 130 پولنگ سٹیشنوں کے نتائج کا اعلان کیا گیا تھا جس کے مطابق احمد بہادر کامیاب امیدوار قرار دیے گئے تاہم بعدازاں آخری حلقے کے نتائج آنے پر 61 ووٹ کی برتری کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی کامیابی کا اعلان کیا گیا۔

اس کے بعد اگلے ہی دن عوامی نیشنل پارٹی نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا جبکہ پارٹی مشاورت سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کیلئے درخواست جمع کرائی گئی تھی۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button