خیبر پختونخوا

613 ارب سے زائد کا سرپلس بجٹ پیش، پنشن میں دس فیصد اضافے کا اعلان

صوبائی وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا کی جانب سے پیش کردہ بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے 180ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ اخراجات کا تخمینہ 618 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے رواں مالی سال 2018-19 کے لئے 648 ارب روپے سے زیادہ کا سرپلس صوبائی بجٹ آج پیش کیا گیا۔

صوبائی وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا کی جانب سے پیش کردہ بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے 180 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ اخراجات کا تخمینہ 618 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

صوبائی بجٹ میں نئے ٹیکس لگانے کے ساتھ ساتھ موجودہ ٹیکسوں کی شرح میں ردوبدل کی تجویز پیش کی گئی جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کو دس فیصد ایڈہاک ریلیف دینے، پنشن میں دس فیصد اضافہ کرنے اور ہائوس رینٹ میں پچاس فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے لئے پیش ہونے والے صوبائی بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے مختص کردہ 180ارب روپے میں سے صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لئے 79 ارب 55 کروڑ روپے ،ضلعی اے ڈی پی کے لئے 29 ارب 34 کروڑ روپے اور غیر ملکی امداد سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 71ارب10کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق بجٹ میں کل آمدن کا تخمینہ 648 ارب روپے جس میں صوبائی محاصل سے آمدن کا تخمینہ 40 ارب روپے لگایا گیا ہے جب کہ پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں آمدن کا تخمینہ 25 ارب روپے اور پن بجلی کے بقایا جات کی مد میں آمدن کا تخمینہ 39 ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔

اسی طرح بجٹ میں بی آر ٹی ، بلین ٹری اور صحت انصاف کارڈ سمیت صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لئے اربوں روپے کے فنڈز رکھے گئے ہیں۔

رواں مالی سال کے صوبائی بجٹ کی منظوری کے لئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی صدارت میں صوبائی کابینہ کا اجلاس آج سول سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں بجٹ دستاویزات کی منظوری دی گئی۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button