خیبر پختونخوا

طلباء اور والدین کا ایٹا ٹیسٹ تحقیقات تک میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلہ موخر کرنے کا مطالبہ

پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے موقع پر صوبے کے مختلف علاقوں سے آئے طلباء اور ان کے والدین نے الزام عائد کیا کہ میڈیکل کیلئے لیا گیا ٹیسٹ تین بار کینسل ہونے کے باوجود آؤٹ ہو گیا تھا جبکہ سوالات اور جوابات میں تضاد بھی موجود تھا۔

خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلباء اور ان کے والدین نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلہ موخر کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے موقع پر صوبے کے مختلف علاقوں سے آئے طلباء اور ان کے والدین نے الزام عائد کیا کہ میڈیکل کیلئے لیا گیا ٹیسٹ تین بار کینسل ہونے کے باوجود آؤٹ ہو گیا تھا جبکہ سوالات اور جوابات میں تضاد بھی موجود تھا۔

اس موقع پر فرحان نامی ایک طالبعلم کا کہنا تھا کہ ایٹا ٹیسٹ میں ہوئی بے قاعدگیوں کے ان کے پاس ثبوت موجود ہیں جبکہ طلباء کے ساتھ ایٹا عملے کا رویہ بھی افسوسناک ہوتا ہے۔

والدین کا دوسری جانب کہنا تھا کہ اپنے بچوں کے مستقبل کیلئے انہوں نے گھر بار چھوڑ رکھا ہے اور پشاور میں مقیم ہیں تاہم سخت محنت کے باوجود ایٹا حکام نے ان کے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔

سرور خان نامی شخص کا کہنا تھا کہ ایٹا ٹیسٹ کی وجہ سے ان کے بچے ذہنی مریض بن کر رہ گئے ہیں اور مزید تعلیم حاصل کرنے سے انکاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایٹا ٹیسٹ اور اس کے نتائج کی وجہ سے ہری پور کی ایک طالبہ خودکشی بھی کر چکی ہے۔

والدین نے کہا کہ ملک کے دیگر صوبوں میں میڈیکل کیلئے انٹری ٹیسٹ کا طریقہ کار الگ اور خیبرپختونخوا میں الگ ہے جو غریب اور دہشت گردی سے متاثرہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

طلباء اور والدین نے وزیراعظم عمران خان اور چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ ایٹا ٹیسٹ میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات کیلئے ہائیکورٹ جج کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔

بعدازاں طلباء اور والدین نے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button