خیبر پختونخوا

فاٹا کے سکولوں کے حوالے سے حکومتی پالیسی مسترد

چائلڈ رائٹس مومنٹ فاٹا ‘فاٹا کمیشن آف ہومن رائٹس اور تعلیمی اصلاحی جرگہ فاٹا نے سکولوں کے حوالے سے حکومتی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹامیں بچوں کوزیورتعلیم سے آراستہ کرنے آسانیاں پیدا کی جائیں۔
اس سلسلے میں گزشتہ روز پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت آئین میںان بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ریاست 5 سال سے لیکر 16 سال تک بچوں کو مفت تعلیم دیگی،آرٹیکل 25اے فاٹا کے اندر لاگو ہے جس پر عمل کرنا حکومت کا کام ہے، موجودہ ریشنلائز یشن ایجوکیشن پالیسی برائے قبائلی علاقہ جات قبائلی بچوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فاٹا میں ایک طرف دہشتگردسکولوں کو دھماکوں سے تباہ کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف حکومت مختلف بہانے بناکر سکولوں کو بند کررہی ہے، موجودہ پالیسی سے قبائیلی علاقوں میں بچوں کی تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہونے کے ساتھ ساتھ قبائلوں کے مابین دشمنیاں بھی پیدا ہو جائیگی ۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button