خیبر پختونخوا

سانحہ گھنٹہ گھر، صوبائی حکومت کی تاجر برادری سے کامیاب مذاکرات

 سانحہ گھنٹہ گھر پر صوبائی حکومت نے متاثرہ تاجر تنظیم سے کامیاب مذاکرات کئے ہیں۔  وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی ہدایت پر پشاور سے پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی شوکت یوسفزئی کی سربراہی  میں جرگے کی تاجر برادری سے گزشتہ رات سے رابطے اور بات چیت ہوتی رہی۔  ہفتہ کی صبح کئی گھنٹے مذاکرات کے بعد گھنٹہ گھر سانحہ پر تاجربرادری اور ورثاء کے تین مطالبات منظورکئے گئے جن میں واقعہ کی غیر جانبدارانہ شفاف انکوائری، جاں بحق وزخمی افراد کیلئے امدادی پیکیج اور وزیراعلیٰ سے ملاقات کے مطالبات شامل تھے۔ پیکج کے تحت جاں بحق دکانداروں کے ورثاء کو دس دس لاکھ جبکہ زخمیوں کو دو دو لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ جرگے کی درخواست پر متاثرین اور تاجر انصاف فورم ملزمان کی فوری گرفتاری کے مطالبے سے دستبردار ہوگئے تاہم شفاف تحقیقات کے فوری بعد گرفتاریاں عمل میں لانے پر اتفاق ہو گیا ۔ اس موقع پر گھنٹہ گھر میں تاجر انصاف فورم کے مرکزی دفتر میں صدر شاہد خان، گھنٹہ گھر و چوک یادگار سمیت 60 بازاروں کے صدوراور جاں بحق و زخمی دکانداروں کے ورثاء کی موجودگی میں اتفاق رائے سے مطالبات کی منظوری عمل میں لائی گئی۔ شاہد خان نے واضح کیا کہ ہم اپنے شہداء پر سیاست نہیں ہونے دینگے جی ٹی روڈ کو بلاک اور مظاہرہ کرنے والوں سے ہمارا یا متاثرین کا کوئی تعلق نہیں حقیقت یہ ہے کہ اس المناک واقعہ میں لوگ ہمارے فوت اور زخمی ہوئے، ایف آئی آر ہم نے درج کرائی مگر سیاست دوسرے کرنے لگے ہم سیاست نہیں انصاف چاہتے ہیں ۔ اسکے بعد گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاوس میں تاجربرادری کی وزیراعلٰی پرویز خٹک سے ملاقات ہوئی جس میں پرویز خٹک نے ٹاؤن انتظامیہ کو ہدایات جاری کیں کہ ان دوکانوں کو مسمار کرنے کی بجائے دوکانداروں سے بات چیت کی راہ اپنائے۔ وزیراعلٰی نے 220 دوکانوں کی مسماری کا نوٹس واپس لینے کا فیصلہ بھی کیا۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button