خیبر پختونخوا

صوبائی حکومت نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطالبات کے حل کیلئے کمیٹی قائم کردی

صوبہ بھر سے تعلق رکھنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنی تنخواہوں اوربقایا جات کے حصول کیلئے صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا احتجاجی دھرنے میں شامل خواتین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی خواتین لیڈی ورکرز کے مطابق گذشتہ چار مہینوں سے انہیں تنخواہیں نہیں ملی جبکہ حکومت محکمہ صحت کے دیگر حکام کی طرح انہیں مراعات بھی نہیں دے رہی اپنے مطالبات کے بارے میں بات کرتے ہوئے لیڈی ہیلتھ سپروائزر قاضی مسرت نے ٹی این این کو بتایا کہ نہ صرف تنخواہیں نہیں مل رہی بلکہ سپریم کورٹ نے جس سکیل کے تحت ہمیں تنخواہیں ادا کرنے کے احکامات جاری کئے تھے وہ بھی نہیں دئیے جارہے خاتون کے مطابق سال 2012 ء سے ہمیں مستقل کردیا گیا ہے اور ڈرائیو ر کا سکیل چار لیڈی ہیلتھ کورکرز پانچ اور لیڈی ہیلتھ سپروازئر کو گریڈ سات دیا گیا ہے لیکن ابھی تک ہمیں سکیل کے مطابق تنخواہیں بھی نہیں دی جارہی اور ابھی تک ڈرائیور ، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور لیڈی ہیلتھ سپروائزر کو یکساں طور پر آٹھ آٹھ ہزار روپے تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں خاتون قاضی مسرت نے مزید بتایا کہ ہم ہر وقت خطرے کا سامنا کرتی ہیں اورگھر گھر مہم چلاتی ہیں- احتجاج کے دوران بعض خواتین گرمی کی وجہ سے بے ہوش ہوگئیں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے احتجاج کے باعث جی ٹی روڈ پر مکمل طور پر بند رہا اور ٹریفک کو دوسرے روٹس پر منتقل کردیا گیا آٹھ گھنٹے بعد صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے احتجاج کرنے والی خواتین لیڈی ہیلتھ ورکرز کیساتھ مذاکرات کئے اور یقین دہانی کرائی کہ انہیں تنخواہیں جلد ادا کی جائنیگی اور ان کے دیگر مطالبات بھی پورے کرنے کیلئے کمیٹی قائم کرنیکا اعلان کیا جس میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی نمائند ہ خواتین بھی شامل ہونگی- جس کے بعد خواتین لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنا احتجاج ختم کردیا-

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button