خیبر پختونخوا

چترال میں نوجوانوں کو قتل کرکے دریاں میں پھینک دیاگیا

چترال(گل حماد فاروقی) پاک افغان سرحدی علاقے کے قریب دمیل سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوںکو قتل مخالفین نے قتل کردیا اور لاشوں کو تکڑے تکڑے کرنے کے بعد بوری میں بند کرکے دریا میں ڈال دیا۔ مقامی پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیا ہے تاہم نوجوانوں کے لواحقین نے ملزمان کے خلاف دہشتگردی کے مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کردیا۔
اس سلسلے میں نوجوانوں کے لواحقین نے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ مظاہرین کا کہناتھاکہ مقتولین 25 سالہ شفیع الرحمن ولد حکیم جان اور 19سالہ شاہ فیصل ولد گل زمان اٹھارہ فروری کو گھر سے غائب ہوگئے تھے جو کسی کام کیلئے ارندو کے کوتائی گاو¿ ں گئے تھے ۔ دونوں نوجوانوں کی گمشدگی پر ان کے ورثاءنے چیک پوسٹ سے معلومات کیا جہاں اس بات کا انکشاف ہوا کہ دونوں لڑکے چیک پوسٹ میں انٹری کرکے آگے گئے تھے۔
انہوں نے کہاکہ ملزمان نے دونوں کو پہلے قتل کیا ‘ پھر ان کے سر تن سے جدا جسم کے ٹکرے ٹکرے کئے اور بوریوں میں بند کرکے دریاں پھینک دئیے تھے ۔ بوریوں کو فوج کے جوانوں نے کنڈوں کے ذریعے دریا سے نکالا۔
لواحقین نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف آف آرمی سٹاف ‘ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور انسپکٹر جنرل آف پولیس سے اپیل کی ہے کہ ملزمان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرکے یہ کیس فوجی عدالت کو منتقل کیا جائے تاکہ غمزدہ خاندان کو جلدی اور سستا انصاف مل سکے۔
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ مقامی پولیس نے ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی عرض سے صرف قتل کا مقدمہ درج کیا ہے اور اسے زمین کا تنازعہ قرار دیا ہے جو حقیقت کے برعکس ہے ، مقتولین کے خاندانوں کا مخالف فریق سے کسی قسم کی زمین کا تنازعہ یا دشمنی نہیں ہے۔ چترال پولیس اپنے حقوق کےلئے پر امن احتجاج کرنے والوں کے خلاف پر دہشت گردی کے دفعات لگاتے ہیں مگر انسانوں کے تکڑے تکڑے کرکے دریاں میں پھینکنے والے ملزمان کے حلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا ۔مظاہرین نے دھمکی دی کہ ان کے ساتھ انصاف نہ ہوا تو وہ اس سے بھی بڑا قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button