خیبر پختونخوا

‘سکول نہ ہونے کی وجہ سے بچے دس کلومیٹر دور سکول تک پیدل جاتے ہیں’

لکی مروت شہرسے دس کلومیٹرکے فاصلے پرواقع گاؤں وانڈہ حاجی گل آج کے ترقیافتہ دورمیں بھی تعلیم جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے ،اس گاؤں میں ایک سوبیس گھرانے آبادہیں ۔

گاؤں وانڈہ حاجی گل سے تعلق رکھنے والے اطلس خان ،شیرنوازخان اورعبدالمنان نے بتایاکہ ہمارے بچے دس کلومیٹردورپیدل جاکرتعلیم حاصل کرنے پرمجبورہیں ان کے مطابق آج تک کسی سیاستدان کویہ توفیق نصیب نہ ہوئی کہ ہمارے بچوں کے حال پررحم کرکے ہمارے گاؤں میں کوئی پرائمری سکول قائم کرے، انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت تعلیم کوجو ترجیح دے رہی ہے اس میں ہمارے گاؤں وانڈہ حاجی گل کی حالت پررحم کرے اوریہاں کے بچوں کیلئے سکول قائم کرے  ۔ والدین کا کہنا تھا کہ  اگرنئے سکول قائم کرنے میں فنڈزکی رکاؤٹ ہوتوہم اپناحجرہ بمع کمرہ دینے کوتیارہیں   ،تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اس میں عارضی سکول قائم کرلے ۔

دوسری جانب تعلیمی ایمرجنسی اور تعلیم کے لئے سب سے زیادہ بجٹ مختص کرنی والی صوبائی حکومت نے پختونخوا کا تعلیمی بجٹ سو ارب روپے کردیا ہے لیکن ابھی تک کوئی بھی مختص بجٹ پورا استعمال نہیں کیا جاسکا جو کہ حکمرانوں کے بلند و بالا دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button