خیبر پختونخوا

ایم ٹی آئی ایکٹ کے خلاف تدریسی ہسپتالوں میں احتجاج

پشاور (ٹی این این) خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں میں میڈیکل اینڈ ٹیچنگ ایکٹ اور لازمی سروس ایکٹ کے نفاذ کیخلاف پشاور کے تینوں بڑے تدریسی ہسپتالوں لیڈی ریڈنگ‘ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ہیلتھ ایمپلائز کوآرڈی نیشن کونسل نے مکمل ہڑتال کی ۔ لازمی سروس ایکٹ کے تحت انتظامیہ نے 16 ملازمین کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور سے فارغ کرکے ان کی خدمات محکمہ صحت کے حوالے سے کردیں۔
منگل کے روز ہیلتھ ایمپلائز کونسل جس میں ڈاکٹرز ،نرسز، پیرا میڈیکس اور درجہ چہارم سمیت دیگر تنظیمیں شامل تھیں نے صبح آٹھ بجے سے ایمرجنسی کے علاوہ تمام شعبوں میں ہڑتال کی جس سے دن بھر مریض رلتے رہے ۔ ہڑتال کا سلسلہ دن بھر جاری رہا، اس دوران ملازمین بضد تھے کہ فوری طورپر ایم ٹی آئی ایکٹ کے ان نکات میں ترامیم کی جائیں جومریضوں اور ملازمین کے ساتھ دشمنی پر مبنی ہے جبکہ ہسپتال انتظامیہ لازمی سروس ایکٹ کے نفاذ کے باجود ملازمین کی ہڑتال ختم کرنے میں ناکام رہی۔
ہسپتال انتظامیہ نے ہڑتال کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے 16 ملازمین کو ایل آر ایچ سے فارغ کرکے ان کی خدمات محکمہ صحت کے حوالے کردیں ۔ ملازمین کا مؤقف تھا کہ ایم ٹی آئی ایکٹ امریکہ سے لایا گیا ہے جو یہاں کے غریب عوام پر لاگو کیا جارہاہے اس ایکٹ کے نفاذ سے سرکاری ہسپتالوں میں طبقاتی نظام صحت آجائیگا جبکہ فری علاج کی سہولت ختم ہوجائیگی ۔
حکومت ملازمین کو یقین دہانی کرائے کہ ایم ٹی آئی ایکٹ میں غریبوں کا علاج فری ہوگا جبکہ تمام ملازمین کو یکساں مراعات اور ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس دیا جائیگا اور ایم ٹی آئی ایکٹ سے 16(2)میں ترمیم کرکے ملازمین کو تحفظ دیاجائے توانہیں اس ایکٹ کے نفاذ پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔
ہڑتال کو روکنے کیلئے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے ایک دن قبل صوبے کے چاروں ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں لازمی سروس ایکٹ نافذ کیا لیکن ایکٹ کے نفاذ کے باوجود ملازمین دن بھر ہڑتال پر رہے ۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button