خیبر پختونخوا

مردان ریلوے سٹیشن دوبارہ کھولنے کی کوئی امید نہیں، جلسے اور میلوں نے ستیشن گھیر لیا

سال دو ہزار سات میں شہید جمہوریت بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پاکستان ریلوے کے ڈھائی سو انجن جلائے گئے تھے جسکی وجہ سے نہ صرف محکمہ ریلوے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا بلکہ عوام کی آمد و رفت کی سہولت بھی کافی متاثر ہوئی ہے۔

راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ہونے والے سانحہ جمہوریت کے بعد مردان ریلوے سٹیشن بھی بند کیا گیا تھا جو کہ تاحال بند پڑا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اس جنکشن پر نوشہرہ سے ریل اور مال گاڑیاں آتی تھیں جو کہ چارسدہ، رسالپور، مردان، اور درگئی تک آگے جاتے تھے۔ اس سروس سے نہ صرف سامان بآسانی اور سستے داموں ان علاقوں میں پہنچایا جاتا تھا بلکہ ان علاقوں سے آمدو رفت کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا جس سے سینکڑوں لوگ برسر روزگار تھے۔

ٹی این این سے بات کرتے ہوئے مردان چیمبر آف کامرس کے صدر ظاہر شاہ کا کہنا تھا کہ ریلوے سٹیشن سے تاجروں کو کافی منافع ہوتا تھا اور سہولت بھی تھی۔ ان کے مطابق اب جو ایک ٹرک مال لانے پہ خرچہ آتا ہے مال گاڑی میں اس کی قیمت پر تین ٹرکوں کا مال آتا تھا۔ اگر حکومت اس سٹیشن کی دوبارہ فعالی میں دلچسپی لے تو ہمیں کافی فائدہ ہوسکتا ہے ” جب سے یہاں ریلوے سٹیشن بند ہوگیا ہے دوکاندار جو مال پنجاب، ڈی آئی خان ملتان و دیگر جگہوں سے منگواتے ہیں تووہ پہلے مال گاڑی میں نوشہرہ پہنچاتے ہیں اور پھر وہاں لوکل گاڑیوں میں مردان اور مضافات تک لے آتے ہیں جس سے نہ صرف کرایوں میں آضافہ ہوتا ہے بلکہ مال بھی خراب ہوتا ہے”۔

مردان ویلوے جنکشن کے سٹیشن ماسٹر ممتاز خان کا کہنا ہے کہ ریلوے سٹیشن میدان میں اکثر جلسے جلوس ہوتے ہیں اور یا پھر میلوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ ان کے مطابق سٹیشن عمارت مخلتف تاجروں کو لیز پر دی گئی ہے کیونکہ مردان ریلوے سٹیشن کی دوبارہ فعالی کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button