خیبر پختونخوا

احتساب کمیشن کے اختیارات محدود، ادارے کے سربراہ کی مخالفت، کئی سفید پوشوں کا تحقیقاتی عمل تعطل کا شکار

خیبرپختونخوا احتساب کمیشن کے سربراہ ریٹائرڈ لیفٹننٹ محمد خامد خان نے حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے جس کے تحت احتساب کمیشن کے اختیارات محدود کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ ادارے کے سربراہ ریٹائرڈ لیفٹننٹ محمد حامد خان نے حکومت کی جانب سے احتساب ایکٹ میں ہونے والے ترامیم کی مخالفت کرتے ہوئے وزیراعلٰی پرویزخٹک کے نام خط میں لکھا ہے کہ حکومت کی احتساب ایکٹ میں ترامیم آزاد اور شفاف احتسابی عمل میں رُکاوٹ ہیں۔ انہوں نے اس خط کی ایک کاپی پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کو بھی بھیجی ہے۔

صوبائی حکومت کی احتساب ایکٹ میں یہ ترامیم ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب احتساب کمیشن کئی وزرا، مشیر اور دیگر سرکاری افسران کے خلاف کرپشن کیسز کی تحقیقات میں مصروف عمل ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے کی گئی ترامیم میں سرکاری افسران کی گرفتاری کی صورت میں چیف سیکرٹری جب کہ وزرا کی گرفتاری کی صورت میں سپیکر صوبائی اسمبلی کو مطلع کرنا شامل ہے۔ اسکے علاوہ انکوائری اور تحقیقات کو قلیل مدت میں مکمل کرنا بھی ان ترامیم کا حصہ ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button