خیبر پختونخوافیچرز اور انٹرویو

سویرا فاؤنڈیشن، بدامنی کا شکار اقلیتی خواتین کے لئے امید کی کرن، معاشی استحکام کی طرف ایک اور قدم

پشاور میں فلاحی ادارے نے دہشت گردی سے متاثرہ اقلیتی طبقے کے خواتین کو ہنر مندبنانے کے لئے تربیتی مرکز کاقیام عمل میں لایا ہے۔ سویرا فاؤنڈیشن کے نام سے کام کرنے والا یہ ادارہ گزشتہ ایک دہائی سے انسانی خدمت اور معاشی استحکام  کے لئے اپنی خدمات مہیا کررہا ہے۔ سویرا فاونڈیشن کے گلبہار میں قائم اس تربیتی مرکز میں پچاس خواتین زیر تربیت ہیں جن کو کمپیوٹر کورسز کے علاوہ کپڑے رنگائی اور نمائش میں رکھی جانے والی اشیا بنانے کی تربیت دی جارہی ہے۔  ابتدائی طور پر اس مرکز میں خواتین تین مہینے تک فنی تربیت حاصل کرتی ہیں جس کے دوران ان کو سات ہزار روپے کا وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔ مریم منورہ دو سال قبل پشاور چرچ میں ہونے والے ہولناک دھماکے میں تو بچ گئی تھی لیکن گھر کی کمائی کا واحد زریعہ اسکا بڑا بیٹا ایک ٹانگ سے ہاتھ دھو بیٹاہے۔ مریم کے مطابق انہوں نے اس مرکز میں بہت کچھ سیکھا ہے جسے یہ اپنا روزگار شروع کرنے میں بروئے کار لاسکتی ہےیہاں پر میں نے پھول بنانا سیکھا ہے، فریم بنائے ہیں اور یہ کام میں گھر میں کرتی ہوں میں نے دوپٹہ رنگائی بی سیکھ لیا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ یہ کام سیکھ کے میں اس کام کو گھر میں شروع کروں اور اسے مارکیٹ تک پہنچاؤں۔

خواتین کو اگر تربیتی مواقع فراہم کئے جائیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ گھر کی کمائی میں مرودوں کا ہاتھ بٹا سکتی ہیں
خواتین کو اگر تربیتی مواقع فراہم کئے جائیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ گھر کی کمائی میں مرودوں کا ہاتھ بٹا سکتی ہیں

سویرا فاؤنڈیشن کے رہنما اور بشری حقوق کے لئے سرگرم عمل لال جان آفریدی کا کہنا ہے کہ اس پروجیکٹ کا مقصد بدامنی سے متاثرہ اقلیتی خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہےان کو ہم فنی تربیت کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم بھی دیتے ہیں جس سے یہ آئندہ وقتوں میں گوگل کو تلاشنا سیکھ جائینگی۔ یہ فیس بک پیج بنانا سیکھ جائینگی جو ان کو سماجی رابطوں کے ویب سائٹس پراپنی بنائی مصنوعات و نمائشی اشیا کو مارکیٹ کرنے میں مددگار ثابت ہونگی۔ اس سے نہ صرف ان کے روابط بڑھیں گے بلکہ یہ اپنے بنائی ہوئی چیزوں سے متعلق معلومات بھی اکٹھا کرسکیں گی۔ اور اگر کوئی خاتوں کپڑوں پر آرائش و زیبائش کا کام کرتی ہے تو وہ انٹرنیٹ سے نت نئے ڈیزائین دیکھ کر اپنے صارفین کا دائرہ بھی وسیع کرسکتی ہے۔

مریم کے بعد زیب النسا بھی اسی سلسلے کی کھڑی ہے جو پہلے کمپیوٹر جاننی تک نہیں تھی لیکن اس تربیتی مرکز میں یہ ہنر اتنا سیکھ گئی ہے کہ اب اپنے بچوں کے علاوہ محلے کے باقی بچوں کو بھی کمپیوٹر پڑھاسکتی ہے۔پہلے مجھے کمپیوٹر کے بارے کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ آن کیسے ہوتا ہے آف کیسے ہوتا ہے کام کیسے کرتا ہے  لیکن اب تو میں پاور پوائنٹ اور ورلڈ بھی سیکھ لیا ہےجس سے مجھے کافی فائدہ ہوا ہے اور اب میں دوسروں کو بھی پڑھاسکتی ہوں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button