خیبر پختونخوا

باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے مرکزی سہولت کار گرفتار: حساس اداروں کا دعوٰی

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دو ہفتے قبل باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والے حملے کے ایک اہم ’سہولت کار‘ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق  اہم سہولت کار وحید علی عرف ارشد نامی ملزم کو گذشتہ ہفتے نوشہرہ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

مذکورہ ملزم نے افغانستان فرار ہونے کے لیے تیاری مکمل کرلی تھی لیکن سکیورٹی اداروں نے انھیں بھاگنے سے پہلے گرفتار کر لیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے  کے مطابق ملزم وحید علی نے یونیورسٹی پر حملے کےلیے تقریباً چار ماہ تک افغانستان میں منصوبہ بندی کی تھی اور سرحد پار ان علاقوں میں رہے جہاں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو پناہ لیے ہوئے تھے۔

انیوز رپورٹ کے  مطابق ملزمان نے پہلے مردان میں حملے کی منصوبہ بندی کی تھی تاہم بہتر سکیورٹی انتظامات کے باعث وہاں کارروائی کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیا اور بعد میں چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی میں حملہ کیا گیا۔

ملزم نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ وہ دو حملہ آوروں کو اپنے ساتھ سرحد پار افغانستان سے لایا جبکہ مذید دو حملہ آور پہلے ہی چارسدہ میں ایک اور سہولت کار کے ہمراہ موجود تھے۔

ملزم کی عمر 30 سال کے لگ بھگ ہے اور ان کا تعلق نوشہرہ کے علاقے امان کوٹ سے بتایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ دو ہفتے قبل چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی پر شدت پسندوں کی جانب سے ہونے والے حملے میں کم سے کم 21 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد سے یونیورسٹی غیر معینہ مدت کےلیے بند کردی گئی ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button