خیبر پختونخوا

پشاورہائی کورٹ: صرافہ بازار کا بند روزگار کھول دو، کیوں بند کیا تھا ؟ ڈائریکٹر ایف آئی اے جواب طلب

پشاور ہائی کورٹ نے افغانستان سمیت دیگر غیر ملکی کرنسی کا کاروبار کرنے کے الزام میں ایف آئی اے کی جانب سے چوک یادگار پشاور کی صرافہ مارکیٹ میں میں بند کئے گئے کاروباریں فوری طور پر کھولنے کے احکامات جاری کئے ہیں جبکہ اس سلسلے میں ڈائریکٹر ایف آئی اے سے تین ہفتوں کے اندر جواب بھی طلب کر لیا ۔
عدالت عالیہ کے جسٹس قیصر رشید اور جسٹس روح الا مین پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کرنسی صرافہ ایسو سی ایشن کی جانب سے دائر رٹ کی سماعت کی ۔دائر رٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پشاورکی چوک یادگار میں 300 سے زائد ایسو سی ایشن کے ارکان پاکستانی اور افغان کرنسی کا کا روبار کر ہے ہیں افغان کرنسی کا کاروبار قانونی ہونے کے باو جود بھی وفاقی تحقیقاتی ادارہ کی جانب سے ان کی دکانیں بند کر دی گئی ہیں جن پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ کرنسی کا غیر قانونی کاروبار کر رہے ہیں جبکہ اس کاروبار کے لئے انہوں نے سٹیٹ بنک آف پاکستان سے لا ئسنس حاصل کرنے کی درخواستیں جمع کیے ہیں تاہم ان کو لائسنسیں جاری نہیں کئے جارہے ہیں۔ فاضل دو رکنی بنچ نے اس سلسلے میں اٹارنی جنرل آف پاکستان اور ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس سلسلے میں ان سے جواب طلب کر لیاتھا جنہوں نے منگل کے روز عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیئے جس کے بعد فاضل دو رکنی بنچ نے ایف آئی اے کی جانب سے چوک یادگار پشاور کی صرافہ مارکیٹ میں بند کئے گئے کاروباریں فوری طور پر کھولنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں جبکہ اس سلسلے میں ڈائریکٹر ایف آئی اے سے تین ہفتوں کے اندر جواب بھی طلب کر لیا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button