خیبر پختونخوا

باچا خان و گومل یونیورسٹیز سیکورٹی خدشات کے تحت ایک مرتبہ پھر بند

چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں گومل یونیورسٹی ایک مرتبہ پھر سیکورٹی خدشات کی بنا پر بند کرادی گئی ہیں۔

پیر کو باچا خان یونیورسٹی کے وی سی فضل رحیم مروت کی سربراہی میں ایک اعلٰی سطح کو اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ جب تک حکومت ان کو مضبوط سیکورٹی فراہم نہ کرے اور سیکورٹی پر مامور اہلکاروں کو تربیت نہ دے اُس وقت تک جامعہ میں تدریسی عمل شروع نہیں ہوگا۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے ہونیوالی دہشت گردی سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ بھی مسترد کردی ہے جس میں صوبائی حکومت کو یونیورسٹی وی سی اور سیکورٹی افسر کی برطرفی کی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔

اس بارے یونیورسٹی کے ترجمان سعید خان خلیل نے ٹی این این کو بتایا ” اجلاس میں تمام اساتذہ اور دیگر سٹاف نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ وی سی کا ساتھ دینگے اور اسکے علاوہ اب تک حکومت سے ہم نے جو مطالبات کئے ہیں وہ پورے نہیں ہوئے۔ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی کے ساتھ پولیس چوکی بنائی جائے اور ہمارے گارڈز کو کلاشنکوف مہیا کی جائے اس کے علاوہ واک تھرو گیٹ اور واکی ٹاکی ہینڈ سیٹوں کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا”

دوسری جانب گومل یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ نے بھی جامعہ کو نامعلوم میعاد تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ گومل یونیورسٹی جامعہ باچا خان میں ہونیوالی دہشت گردی سے قبل قلیل فنڈ کی وجہ سے بند کی گئی تھی جبکہ اب اسکی بندش کی وجہ عدم تحفظ کی صورتحال بتائی جاتی ہے

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button