خیبر پختونخوا

صرافہ بازار بند کرنے پر پشاور ہائی کورٹ کا اٹارنی و ایڈوکیٹ جنرل سے جواب طلب

پشاور ہائی کورٹ نے افغانستان سمیت دیگر غیر ملکی کرنسی کا کاروبار کرنے کے الزام میں ایف آئی اے کی جانب سے چوک یادگار پشاور کی صرافہ مارکیٹ بند کرنے سے متعلق کیس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان اور ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کر لیا ہے ۔

عدالت عالیہ کے جسٹس روح الامین اور جسٹس سید افسر شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کرنسی صرافہ ایسو سی ایشن کی جانب سے دائر رٹ کی سماعت کی  رٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پشاورکی چوک یادگار میں300سے زائد ایسو سی ایشن کے ارکان پاکستانی اور افغان کرنسی کا کا روبار کر ہے ہیں ۔افغان کرنسی کا کاروبارقانونی ہونے کے باو جود وفاقی تحقیقاتی ادارہ کی جانب سے ان کی دکانیں بند کر دی گئی ہے جن پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ کرنسی کا غیر قانونی کاروبار کر رہے ہیں حالانکہ انہوں نے کاروبار کیلئے باقاعدہ سٹیٹ بنک آف پاکستان سے لا ئسنس حاصل کئے ہیں تاہم اس کے باوجود بھی ان کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جو کہ سرا سر نا انصافی اور قانون و آئین کی خلاف ورزی ہے ۔ ایف آئی اے کی جانب سے ان پر چھاپے ما رے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے کاروبار کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے فاضل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان اور ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس سلسلے میں ان سے جواب طلب کر لیا۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button