خیبر پختونخوا

وزیراعلٰی پرویزخٹک کی عمران خان کی حکم عدولی، فل پروٹوکول لےکر گھوم رہے ہیں

اعلان اعلان  ہی رہا شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔خیبرپختونخوا کے حکومتی ارکان کو سرکاری پروٹوکول نہ دینے کا اعلان صرف اعلانتک ہی محدود رہا ۔ پیر کو پختونخوا کے اعلٰی وزیر پرویز خٹک کے لئے، آرکائیو لائبریری تشریف لاتے وقت سرکاری پروٹوکول کے تحت شیرشاہ سوری پل کے ساتھ ہر طرف سے راستے بند کردئے گئے تھے جس کا خمیازہ بیچاری عوام کو انتظار اور جام ٹریفک کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ چند دن قبل سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کے پروٹوکول میں بند کئے گئے ٹریفک میں ہسپتال لے جانی والی بچی بسمہ کی موت واقع ہوئی تھی جسکے بعد لودھراں میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان بھی جوش میں آگئے اور نوٹیفیکیشن جاری کروایا کہ پختونخوا میں وزیراعظم سمیت کسی کو بھی پروٹوکول نہیں دیا جائے گا۔ حکومتی سطح پر ہونے والے اس نوٹیفیکیشن کی وزیراعلٰی پختونخوا نے آج خود دھجیاں اُڑائیں ہیں۔ اس بارے ٹی این این سے عوامی نمائندوں کا کہنا تھاآج پرویزخٹک صاحب جارہے تھے تو کافی دیر تک روڈ بند تھا اور اتوار کو چارسدہ میں بھی یہی حال تھا تو ان وزرا کو تو کم از کم اپنے جاری کئے گئے احکامات کی تعمیل کرنی چاہیے اور اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔ اگر میں کسی حکم پر عوام کی تعمیل چاہتا ہوں تو سب سے پہلے خود مجھے اس حکم کی تعمیل کرنا ہوگی اور اسکے بعد میرے گھر والے کرینگے اور اسکے بعد عوام کرے گی۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button