ڈی آئی خان کا منفرد قبرستان جہاں تمام مذاہب کے مردوں کو دفنانے کی اجازت ہے

کائنات علی

خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سید منور شاہ نامی مقبرہ مذہبی ہم آہنگی اور اتحاد کی ترجمان اور بہترین نشانی ہے۔  یہ خیبر پختونخوا کا واحد مقبرہ ہے جہاں پر تمام مذاہب کے لوگوں کو اجازت ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو یہاں دفنائے، دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں پر پیپل کے درخت لگائے گئے ہیں کیونکہ ہندوؤں کا ماننا ہے کہ ہر ہفتے لکشمی دیوتا اس پر رہنے کے لئے آتی ہے، اس کے علاوہ بادام کے درختوں کو بھی عیسائیوں نے اپنے مذہب کی مناسبت سے لگایا ہے جس کا ذکر صحیفوں میں کئی جگہ موجود ہے۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ڈیرہ اسماعیل خان خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں سے ایک ہے جو دہشت گردی کے بھینٹ چڑھے لیکن یہاں کے لوگوں نے جرات مندی سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور امن کے مرجھائے ہوئے پھول کو پھر سے تقویت بخشی۔ یہاں پر مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہیں جن میں اسلام، ہندومت، یہودیت اور عیسائیت کے پیروکار شامل ہیں جن کے درمیان امن اور محبت کا ایک مضبوط رشتہ موجود ہے یہی وجہ ہے کہ ہر مذہب کے لوگوں کے لوگوں کے لئے ایک ہی مقبرہ مختص ہے۔

ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ڈی آئی خان کے رہائشی سندیپ کمار نے ٹی این این سے بات کرتے ہوئے قبرستان کی تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی، دلیپ نے بتایا کہ یہ سلسلہ 1960ء کی دہائی میں اس وقت شروع ہوا جب ہم کافی مشکل سے دوچار تھے، کیونکہ اس وقت ہندو برادری کیلئے کوئی شمشان گھاٹ نہیں تھا میتوں کو سندھ لے جانا مشکل بھی تھا اور اس پر خرچ بھی آتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ہندوں برادری نے یہ مسئلہ برادری کے معززین کو پیش کیا تاکہ اس کا کوئی حل نکالا جاسکے یوں ایک ہزار سال سے قبرستان چلانے والے(مالکان ) نے تمام مذاہب کو اجازت دی کہ وہ اپنے میتوں کو یہاں دفناسکتے ہیں۔

مقامی پنڈت اشوک کمار نے بتایا کہ ڈی آئی خان میں دہائیوں سے بسنے والے مختلف مذاہب کے درمیان مذہبی ہم آہنگی، امن اور محبت پوری دنیا کے لئے ایک مثال ہے۔ اس نے بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈی آئی خان دہشت گردی کی وجہ سے بہت متاثر ہوا لیکن یہاں کہ لوگوں نے یہ ثابت کردیا کہ انسانیت اور محبت کے بڑھ کر کچھ نہیں، نسل، فرقہ، رنگ اور مذہب جو بھی ہو اس کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اشوک کمار نے شکوہ کرتے ہوئے بتایا کہ امن اور دوستانہ ماحول کے باوجود ہندو برادری کو شمشان گھاٹ کی ضروت ہے تاکہ ہم اپنے میتوں کو جلاسکے جیسا کہ ہندوؤں کا عقیدہ ہے، کیوں کہ جلانے کے لئے میتوں کو کوہاٹ لے جانا پڑتا ہے۔

ڈی آئی خان ہی سے تعلق رکھنے والے عیسائی برادری کے مقامی رہنما سجاد مسیح نے ٹی این این کو بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان امن اور کل مذاہب کے لئے ایک آئیڈیل سرزمین ہے۔ اس نے بتایا کہ مسلمان اور اقلیتی برادری کے لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد اور رسومات میں باقاعدگی سے حصہ لیتے ہیں۔ سجاد نے پوری دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا کو اس قبرستان اور اس محبت سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

اس نے مزید بتایا کہ ڈی آئی خان سے تعلق رکھنے والے ہر مذہب کے پیروکاروں کی ایک جگہ، ایک معاشرتی نظام اور ایک قبرستان ہے جو کہ دنیا کے لئے ایک مثال ہے۔
مقامی اسلامی عالم مفتی شعیب نے ٹی این این کو بتایا کہ ڈی آئی خان کے رہائشیوں کے بارے میں لوگوں کا منفی تاثر ہے کہ یہاں کے لوگ تنگ نظر ہے اور برداشت نہیں کرسکتے جو کہ مکمل غلط ہے کیونکہ یہاں کے لوگ انسانیت امن اور محبت پر یقین رکھتے ہیں۔

سید منور شاہ قبرستان کے حوالے سے اس نے بتایا کہ مذہب، رنگ اور نسل کو بیچ میں نہ لاتے ہوئے سب لوگ یہاں پر میتوں کو دفناتے ہیں جو کہ انسانیت کا بہترین نمونہ ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button