خیبر پختونخواکورونا وائرس

‘ڈیوٹی کے بعد گھر جانے سے بھی کتراتی ہوں’

عبدالستار، مزمل داوڑ

پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال ہیڈ نرس نبیلہ جو کورونا وارڈ میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہی ہیں کا کہنا ہے کہ لیڈی ریڈنگ آئی سی یو میں کورونا کا پہلا مریض 23 مارچ 2019 میں آیا تھا، اس دن ہی تمام سٹاف ممبرز کو کہہ دیا تھا کہ انکی اسی طرح سے دیکھ بال کرنی ہے جسطرح ایک عام مریض کی کی جاتی ہیں۔
نبیلہ نے کورونا کی پہلی لہر میں بھی دل لگا کر اپنی ڈیوٹی دی اور دوسری لہر میں بھی خوش اسلوبی سے اپنا فرض نبھا رہی ہیں۔
سرکاری ہسپتالوں میں موجود طبی عملہ کورونا مریضوں کے دیکھ بال کے ساتھ خود بھی بڑی تکلیف سے گزرتا ہے۔
اس حوالے سے ہیڈ نرس نبیلہ نے بتایا کہ وہ خود 3 بچوں کی ماں ہے، ڈیوٹی کے ساتھ گھربار بھی سنھبالتی ہے یہاں ڈیوٹی سے فارغ ہوکر گھر جاکر سب سے پہلے اپنے کپڑے تبدیل کرنا پھر اپنے گھر والوں کا پوچھنا کہ کس حال میں ہے ایک مشکل مرحلہ ہے، لیکن اللہ کی طرف سے امتحان ہے، کورونا مریض کا علاج اور خدمت کرنا انکا فرض ہے۔
دوسری جانب مردان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں کورونا وائرس وارڈ کی انچارچ نرس نیلو منزہ بھی نبیلہ سے اتفاق کرتے ہوئےکہتی ہیں کہ ہسپتال میں موجود کورونا وائرس کے مریضوں کےلئے بنائے گئے وارڈ میں جو بھی مسئلے ہوتے ہیں ان کو حل کرتے ہیں اور ان مریضوں کی خدمت کے لئے دن رات موجودہوتے ہیں کورونا وارڈ میں ڈیوٹی کے بعد انتظامیہ سات دن کے لئے قرنطینہ کیا جاتا ہےتاکہ وارڈسے باہرجانے کے بعد وائرس نہ پھیلیں۔
نرس نیلو منزہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ ڈیوٹی کے بعد گھر جانے سے بھی کتراتی ہے اور جب ڈیوٹی کے بعد گھر جاتی ہے تو گھر میں الگ کمرے میں قرنطینہ کے دن گزارتی ہیں کہ اگرکورونا وبا کی کوئی علامت ہو تو وہ ظاہر ہوجائے کورونا وبا آنے کے بعد نرس نیلو منزہ کی اپنی خاندان والوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بھی کم ہوگیا جبکہ اپنے رشتہ داروں کے پاس جانا بھی چھوڑ دیا ہے۔


انہوں نے کہا کہ ہم گھر اسلئے نہیں جاتے کہ بزرگ کہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ یہ وبا ہسپتال سے گھر لے آئے اور یہ ان کے لئے بہت تکلیف دہ بات ہے کہ اس وبا کی وجہ سے اب اپنے بھی نفرت کرتے ہیں۔
نبیلہ اور منزہ کی طرح اور نرسز،ڈاکٹرز، پیرامیڈیکس اورصحت کے شعبے سے وابستہ دیگرافراد کوروناوائرس کے خلاف جنگ میں پہلے صف میں موجود ہیں اورہروقت خطرےکاسامناکررہے ہیں۔

خیبرپختونخواکے ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوامیں کورونا وائرس کی وجہ سے ابھی تک چالیس ڈاکٹرز،آٹھ پیرامیڈیکس،چارنرسزاورسات دیگرملازمین وفات ہوچکے ہیں اور سینکڑوں متاثر ہوچکے ہیں۔
خیبرپختونخواکے پراونشل ڈاکٹرایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹرتاج محمد نے بتایا کہ حکومت نے ان کے ساتھ بڑے وعدے کئے تھے لیکن ابھی تک کوروناوائرس کی وجہ سے طبی عملے کے اہلکاروں کے ساتھ کوئی مددنہیں کی گئی جو بھی ملازمین ہے انہیں کوئی رسک الاؤنس نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ کلاس فور،پیرامیڈیکس،نرسنگ سٹاف یا ڈاکٹرزہواگرکسی نے ایک شفٹ میں ڈیوٹی کی ہے یا کسی نے دوسری شفٹ یا تیسری شفٹ میں یا ایمرجنسی یا کوروناوائرس وارڈ میں ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیئے ہے انکو مراعات کیا ابھی تک حفاظتی سامان بھی مہیا نہیں کیا گیا ہے۔
دوسری طرف ضلع مردان کے ڈسٹرک ہیلتھ آفیسر داکٹرکچکول خان نےٹی این این کو بتایا کہ کوروناوائرس کی وجہ سے ڈیوٹی کے دوران جام بحق ہونے والےڈاکٹروں اور شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے عملے کے ساتھ حکومتی وعدے کے مطابق امداد کی جائیگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے ساتھ اس مشکل حالات میں فرنٹ لائن پر کورونا وائرس کے خلاف لڑنے والے طبی عملے کی مشکلات کا احساس ہے اور انکے مسائل کو خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
ڈاکٹرکچکول خان نے کہا کہ انکے ضلع میں جتنے بھی ہیلتھ کئیر پروائڈرز ہے انکو سختی سے ہدایات جاری کی گئی ہے کہ وہ خود بھی کورونا ایس او پیز پر عمل کریں تاکہ عوام دیکھ کرخود بھی عمل کریں اور اسکے ساتھ ساتھ انہیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مریض کے ساتھ ایک تیماردار کی اجازت ہوگی اور بغیرماسک کسی مریض کا چیک اپ نہ کیا جائیں۔
کوروناوائرس وبا کے دواران نرس نیلو منزہ اور ہیڈ نرس نبیلہ کی طرح ہسپتالوں میں ڈیوٹی دینے والے نرسز،ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس سٹاف نہ صرف زندگی کے خطرے کا سامنا کررہے ہیں جبکہ انکے خاندان اور معاشرتی زندگی بھی سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button