خیبر پختونخوا

جماعت اسلامی خواجہ سراؤں کی خدمت میں سب سے آگے

ملک بھر میں رواں جزوی لاک ڈاون سے متاثرہ افراد کیلئے حکومت کے علاوہ مختلف فلاحی تنظیموں کی جانب سے بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں لیکن جماعت اسلامی کی فلاحی تنظیم الخدمت فاونڈیشن اس سلسلے میں دوسری تنظیموں سے ایک قدم آگے نکل گئی ہیں اور اس مشکل وقت میں خواجہ سراؤ کی بھرپور تعاون کا اعلان کیا ہے۔
جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق نے الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکاروں کے نام ایک خصوص پیغام جاری کیا ہے جس میں یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ چونکہ خواجہ سرا پہلے ہی تنہائی کا شکار ہے تو لاک ڈاون ان پر بھاری گزرے گا لہٰذا ان کا خاص خیال رکھا جائے۔

اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے امیر نے خواجہ سرا کمیونٹی کے عہدیداران کو بھی جماعت اسلامی اور الخدمت کے مقامی دفاتر سے رابطہ کرنے کی آفر کی ہے تا کہ ان کی بروقت امداد ہوسکے۔
جماعت اسلامی کی جانب سے اس مشکل وقت میں معاشرے کے اس نظرانداز طبقے کو خصوصی اہمیت دینے پر مختلف آرا سامنے آ رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر اکثریت صارفین اسے ایک اچھا اقدام گردانتی ہے جبکہ چند ایک اسے سیاسی نقطہ نگاہ سے دیکھ کر اس پر سیاسی بحث کر رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے وفاقی وزارت میں کام کرنے والے خواجہ سرا عائشہ مغل نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں جماعت اسلامی کے امیر کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے کہ اس طبقہ کو مشکل وقت میں یاد رکھا گیا۔


اسی طرح معروف صحافی طاہر خان نے بھی سراج الحق کی ٹویٹ کے جواب میں ان سے درخواست کی ہے کہ اپنے جماعت کے اراکین کو خواجہ سراؤ تک پہنچنے کی ہدایات جاری کریں کیونکہ شاید خواجہ سراؤ کے لئے یہ ممکن نہ ہو کہ ان کے دفاتر تک جاسکیں۔

راشد حفیظ نامی ایک صارف لکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی سے ان کے ہزار اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن اس مشکل دور میں وہ جس طرح انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں وہ لائق تحسین ہے۔
ٹویٹر ہینڈل حیدر جاوید سید نے بھی یہی کہا ہے کہ ہمیشہ سے جماعت اسلامی کا ناقد بلکہ مخالف رہا ہے لیکن سراج الحق کا یہ انسانیت بھرا پیغام مجبور کر رہا ہے کہ انہیں دونوں ہاتھوں سے سلام کروں۔


جماعت اسلامی کے مرکزی امیر کے ٹویٹ پر کچھ مخالفین کے بھی کمنٹس آئے ہیں جن میں جہانگیر حسن پی ٹی آئی نامی صارف نے الزام لگایا ہے کہ الخدمت فاونڈیشن زیادہ تر ان لوگوں کی امداد کرتا ہے جو جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے ہوں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button