بی آر ٹی منصوبے میں تاخیر پر ٹھیکیدار کو ادائیگیاں روک دی گئیں

پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے صوبائی دارالحکومت کے سب سے بڑے ٹرانسپورٹ منصوبے بس ریپڈ ٹرانزٹ ( بی آر ٹی) میں غیر معمولی تاخیر پر ٹھیکیدار کو ادائیگیاں روک دی ہیں۔

یہ فیصلہ پشاورڈیویلپمنٹ اتھارٹی، ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کنسلٹنٹ بی آر ٹی اور صوبائی حکام کے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا۔

سرکاری دستاویز کے مطابق ٹھیکیدار نے امن و امان کو جواز بنا کر بجلی کی تنصیبات لگانے کے لئے چائینز انجینئرز کو بلانے میں دیر کردی ہے جبکہ پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام نے چائننرز انجینئرز کی آمد کے حوالے سے امن و امان کے جواز کو مسترد کردیا ہے۔

دستاویز کے مطابق ٹرانسپورٹ منصوبے پر کام شدید سست روی کا شکار ہے اور چھ ماہ میں 6 فیصد کام بھی نہ ہوسکا ہے۔

اجلاس میں اے ڈی بی سے منصوبے میں تاخیر کا فرانزک اڈٹ کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا،اے ڈی بی فرانزک رپورٹ کے بعد ٹھیکہ دار اور دیگر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

سرکاری دستاویز کے مطابق ماہر انجینئرز منصوبے کے نقائص، تاخیر اور ٹھیکیدار کے نقصانات کا جائزہ بھی لیں گے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی حکومت کا واحد میگا منصوبہ بس ریپڈ ٹرانزٹ شاور رواں سال بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اور اس کی تکمیل کی ایک اور ڈیڈلائن گزر جانے کا خدشہ ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق بی آر ٹی کے 30 بس سٹیشنز پر کام مکمل نہیں ہوا، چمکنی سے امن چوک تک 16 سٹیشنوں پر 90 فیصد کام مکمل ہوا ہے۔ 16 بس سٹیشنوں پر دسمبر کے آخر میں کام مکمل ہوگا۔ امن چوک سے حیات آباد تک 14 بس سٹشینوں پر 85 فیصد کام مکمل کیا جاسکا ان سٹیشنز پر کام جنوری کے آخر میں کام مکمل ہوگا۔

خیال رہے کہ کنٹریکٹر نے اگلے سال مارچ میں کام مکمل ہونے کی نئی تاریخ دے دی، اس سے قبل خیبرپختونخوا حکومت نے بی آر ٹی کو دسمبر میں مکمل کرنے کی چھٹی ڈیڈلائن دی تھی۔

بی آر ٹی کے لیے 3 بس ڈپوز پر بھی کام مکمل نہیں کیا جاسکا۔ حیات آباد بس ڈپو پر 10 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہوا۔ حیات آباد سے کارخانو مارکیٹ تک اضافی روٹ پر بھی کام مکمل نہیں کیا جاسکا ہے، روٹ پر کام جنوری کے آخر میں مکمل ہوگا۔ فیڈر روٹس کے 154 بس سٹاپس پر بھی صرف 50 فیصد کام مکمل کیا جاسکا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی انجینیئر محمد عزیر کے مطابق بی آر ٹی منصوبے پر کام رواں مالی سال کے اندر مکمل کرلیں گے، ایشائی ترقیاتی بینک کے ساتھ جو قرض کا معاہدہ کیا گیا ہے اس کے تحت منصوبہ جون 2021 میں مکمل ہونا ہے اور بینک سے کیے گئے معاہدے کے تحت کام کی رفتار بہت تیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی عوام کے لیے حکومت کا بہترین تحفہ ہے جس میں خصوصی افراد کے سوار ہونے .کے لیے ریمپ جبکہ شہریوں کے لیے سائیکل ٹریک اور تینوں ڈپوز پر پارک اینڈ رائیڈ کی سہولت ہوگی۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران صرف 6 فیصد کام ہوا کام بھی غیر معیاری ہونے کا انکشاف ہوا جس پر صوبائی حکومت نے بی آر ٹی پشاور کا ایشیائی ترقیاتی بینک سے آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button