بین الاقوامی

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بداعتمادی کی فضا ہے‘ ڈاکٹر عمر زاخیل وال

پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر ڈاکٹر عمر زاخیل وال نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے اندر ایسی قوتیں موجود ہیں جو نہیں چاہتیں کہ دونوں ممالک میں امن قائم ہو۔ مستقل امن کی بحالی کے لئے حکومتوں کو ہی نہیں بلکہ تمام اداروں اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
جمعرات کو پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے افغان سفیر کا کہناتھاکہ دونوں ممالک جب بھی امن کی بات کرتی ہے تو دونوں جانب تشدد کے واقعات شروع ہوجاتے ہیں جس سے امن کا عمل متاثر ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر عمر زاخیل وال نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بنیادی طورپر ایسا کوئی تنازعہ نہیں صرف بداعتمادی کی فضا ہے جسے حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔افغان سفیر نے افغان صوبہ کنڑ میں ایک ہی خاندان کی چار افراد کی ہلاکت اور باچاخان یونیورسٹی چارسدہ پر ہونے والے حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حال ہی میں ہونے والے ایسا چند واقعات ہیں جس کا بظاہر مقصد امن کے عمل کو ناکام بنانا ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں روزانہ ایسے کئی تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں جس سے یقینی طورپر امن کے عمل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
باچاخان یونیورسٹی چارسدہ پر ہونے والے حملے کا ذکر کرتے ہوئے افغان سفیر نے کہا کہ ان کا بظاہر مقصد امن کے عمل کو ناکام بنانا ہے
اس سوال پر کہ افغان حکومت افغان سرزمین پر پناہ لینے والے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولانا فضل اللہ اور اس کے دیگر جنگجوو¿ں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتی، افغان سفیر نے کہا کہ اس سوال کے جواب کےلیے بعض باتوں کی وضاحت تفصیلی طور پر دینا ضروری ہے لیکن اس وقت وہ اس کی وضاحت ضروری نہیں سمجھتے۔
واضح رہے کہ بدھ کو پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغانستان کا مختصر دورہ کیا تھا جہاں انھوں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button