صحت

قبائلی اضلاع میں بیشتر خواتین کورونا ویکسین لگانے سے محروم ، وجہ کیا ہے ؟

رضیہ محسود

خیبرپختونخوا  کے قبائلی اضلاع میں بیشتر خواتین اب بھی کورونا ویکیسن لگانے سے محروم ہیں جس کی نمایاں  وجوہات کورونا ویکسین سنٹرز کی دوری، سنٹروں  تک جانے والے  سڑکوں کی خراب  صورتحال،  ویکسین کے متعلق افواہیں اور خواتین کو  اپنے صحت  کے  حوالے فیصلے کا اختیار نہ ہونا بتائی جاتی ہیں۔

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی جانو نامی خاتون نے  ٹی این این کو بتایا کہ انہوں نے اس لئے کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگائی کیونکہ انکے گھر والے کورونا  وبا کی موجود ہونے پر یقین نہیں رکھتے۔

جانو نے اپنے گھر  کے مردوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق ‘کوورنا وائرس ایک موسمی بیماری ہے جو پرانے ادوار میں ہوا کرتا تھا مگر اب اس موسمی بیماری نے نئی شکل اختیار کر رکھی ہے۔’

انہوں نے اپنے علاقے کے عوام کو صحت  کے حوالے سے درپیشں مسائل پر بات کرتے ہوئے  بتایا کہ ویکیسن کی شرح میں کمی اسی وجہ سے بھی ہے کہ ہسپتال ان کے گاؤں سے کئی کلو میٹر دور ہے جبکہ ہسپتال جانے کیلئے انہیں  کرائے پر گاڑی لینا پڑتا ہے  تاہم غربت کی وجہ سے  وہ کرائے کی گاڑی میں سفر نہیں کرسکتے جس کی وجہ وہ کورونا ویکسین لگانے اور دیگر علاج کرنے سے محرم رہ جاتے ہیں۔

جنوبی وزیرستان سےتعلق رکھنے والی ایک اور خاتون نور بی بی کا کہنا ہے کہ وہ خصوصی طور پر کرونا ویکسین کے لئے ہسپتال نہیں جا سکتی تھی تاہم جب وہ شدید بیمار ہوئی اور ہسپتال گئی تو علاج  کے ساتھ ساتھ انہیں کورونا ویکسین  بھی لگائی گئی۔

انہوں نے الزام  لگاتے ہوئے کہا کہ ان کے علاقے تنگی میں بنیادی مرکز صحت  غیر فعال ہے جبکہ تحصیل لدھا کا ہسپتال بھی ان سے کافی دور ہے اور سڑک کی خرابی کی وجہ سے  ان کو کئی گھنٹے پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔

نور بی بی کے بقول ان کے علاقے میں اب تک کورونا ویکسین لگانے والی ٹیم نہیں آئی کہ انہیں کورونا وبا کے خطرناک نتائج اور ویکسین کے فوائد کے بارے میں معلومات فراہم کرے۔

دوسری جانب جنوبی  وزیرستان شکئی کے بنیادی مرکز صحت ( بی ایچ یو)  میں کورونا ویکسین  لگانے کیلئے تعینات  لیڈی ہیلتھ ورکر فاطمہ نے کہا کہ وزیرستان کے خواتین کو کورنا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگانے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ  ایک طرف تو یہاں کے لوگ کورونا وائرس کے حوالے سے آگاہ نہیں اور وہ انہیں ایک افواہ  سمجتھے ہیں جبکہ دوسری جانب خواتین مردوں کی اجازت کے بغیر ویکسین نہیں لگاتے جس کیلئے پہلے انہیں مرد کو قائل کرنا پڑتا ہے اور پھر اس کے بعد خواتین کو ویکسین لگائی جاتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ قبائلی اضلاع میں ویکسین لگانے والے خواتین کی تعداد کم ہے۔

فاطمہ کے مطابق  قبائلی اضلاع میں کورونا  کے متعلق افواہوں  اور عوام کی جانب سے اعتماد نہ کرنے کی وجہ ان علاقوں میں انٹرنیٹ  کی عدم  دستیابی  ہے جس کی وجہ سے  یہ لوگ معلومات  سے محروم  رہ گئے ہیں ۔

ملک کے دیگر شہروں اور علاقوں کی طرح صحت پر کام کرنے والے حکام اس کوشش میں ہیں کہ کرونا ویکسین کے لئے کورونا سینٹرز کی تعداد بڑھائی جائے۔

اس حوالے سے جنوبی وزیرستان کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان محسود کا کہنا ہے کہ ضلع جنوبی وزیرستان محسود بیلٹ میں کورونا ویکسین لگانے کے لئے چار مراکز بنائے گئے ہیں اور کوشش ہے کہ جلد ہی اسکی تعداد بڑھا کر آٹھ کر دی جائے۔

ڈاکٹر عبداللہ جان کے مطابق جنوبی وزیرستان میں گزشتہ روز 39442  ٹیسٹس کروائے گئے ہیں جن میں مثبت کیسسز 551 ہے جبکہ 528 صحت یاب ہوچکے ہیں۔جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ  دو سال کے دوران جنوبی وزیرستان میں  چار افراد کورونا وائرس کی وجہ  جان سے گئے ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button