فیچرز اور انٹرویو

پشتو فلمیں ، عوام کے لئے تفریح یا معاشرے میں بگاڑ کا سبب؟

امین الرحمٰن

پشاور کے ایک مقامی ہوٹل میں لوگ بیٹھے چائے پی رہے ہیں۔ چائے کے کپ سے لینے والے گھونٹ کے ساتھ ہوٹل میں لگے بڑے ٹی وی سکرین کی جانب سے انہماک سے دیکھ بھی رہے ہیں۔ ٹیلی وژن سکرین پر اکثر و بیشتر پشتو فلمیں چل رہی ہوتی ہیں جو کہ ہوٹل میں آنے والوں کے لئے جاذب نظر ٹھرتے ہیں۔ ان فلموں میں اغوا برائے تاوان، غیرت کے نام پر قتل اور کلاشنکوف کلچر کے موضوعات پر بنی ہوتی ہیں۔ اس ہوٹل میں مختلف مکتبہ فکر کے لوگ آتے ہیں جن میں اکثر جوان ہوتے ہیں۔ ہوٹل میں بیٹھا بیس سالہ گلزار گھلے گریباں کے ساتھ قہوے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ پشتو فلمیں ان کو بہت اچھی لگتی ہیں کیونکہ اس میں ایکش زیادہ ہوتا ہے ” پشتو فلمیں ہمیں بہت مزہ دیتی ہیں اور ہم بہت دور دور سے سنیما صرف پشتو فلمیں دیکھنے آتے ہیں۔ میں خود پچھلے چار پانچ سال سے یہ فلمیں دیکھ رہا ہوں۔ میں چائے کے ہوٹل میں کام کرتا ہوں اور جو کماتا ہوں بس ان فلموں کی نظر کردیتا ہوں” ۔

CD Drama Shadola

 پاکستان ٹیلی ویژن کے نامور اداکار صمد شاد کا کہنا ہے کہ پچھلے زمانے کی فلمیں معیاری اور دیکھنے لائق تھیں۔ “ٰ پہلے پہل جو ڈرامے بنے تھے اس میں گزارہ تھا کیونکہ وہ فیملی کے ساتھ دیکھنے لائق تھے لیکن آج کل جو ڈرامے بن رہے ہیں ان میں کلاشنکوف ہے۔ جہانگیر خان ہے اور سواتی ہے جس ہر ڈرامے میں پانچے اوپر کئے ہوتے ہیں ہر ڈرامے میں قتل و غارت ہمارے معاشرے پر بُرے اثرات مرتب کرتا ہے”۔

ویسے تو ڈرامہ، فلم اور دیگر بے شمار پروگرامز عوامی تفریح کا سبب بنتے ہیں جس کے زریعے عوام میں شعور و آگاہی کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی پھیلتی ہے لیکن بدقسمتی سے پشتو فلمیں اور سی ڈی ڈرامے اپنا یہ کردار کھو بیٹھے ہیں جس کو آج کل پشتون کلچر و تہذیب کے علاوہ کچھ اور دکھا رہے ہیں۔

Arbaz & Nadia (3) copy

پشتو فلم پرڈیوسر سجاد حیدر کا کہنا ہے کہ یہ فلمیں عوام کی فرمائش اور خواہش کے تحت بن رہی ہیں۔ ” معاشرہ بہت آگے چلا گیا ہے، لوگ ایڈوانس ہوگئے ہیں اور ہم بہت سے لوگوں کے ساتھ مقابلے میں ہیں۔ ہمارے شائقین گاؤں کے ان پڑھ لوگ ہیں جن کی خواہش ہوتی ہے کہ ایسی فلمیں انہیں دیکھنے کو ملے۔ ان فلموں میں جو ناچ یا ڈانس وغیرہ ہوتا ہے سب ان کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے شامل کئے جاتے ہیں”۔

یہ فلمیں دیکھنے والوں کی نفسیات پر کیسے اور کیا کیا اثرات مرتب کرتی ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں سائکا لوجسٹ عظمٰی کا کہنا ہے کہ لوگ جو دیکھتے ہیں وہی ان پر اثرانداز بھی ہوتا ہے اور عادتیں بھی ان کی اپنا لیتے ہیں۔ “ تشدد جسے کہتے ہیں اس میں اور بھی کئی چیزیں شامل ہیں جو ہم دیکھنے سے سیکھتے ہیں۔ بحثیت سائکا لوجسٹ کے میں یہ کہوں گی کہ جو کام پیار محبت سے ہوتا ہے وہ بندوق یا زور سے کبھی نہیں ہوتا”

Pashto film Azadi

 معاشرے میں جاری پشتو کلچر اور تہذیب کے نام پر بننے والی فلموں کی کھلی چھوٹ کے بارے میں جب حکومتی رائے جاننے کی کوشش کی گئی تو کلچر ڈائریکٹوریٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کچھ یو مخاطب ہوئے “ اٹھارویں ترمیم کے تحت سنسر شپ اور ثقافت و کلچر سے بندھے قوانین صوبوں کو منتقل ہوئے ہیں۔ اس مد میں ہم نے صوبے کے کلچر و تہذیب کے ایکسپرٹ اور تجزیہ نگاروں کو بار ہا بلایا ہے کہ سنسر شپ کا طریقہ کار کیا ہونا چاہئے تاہم اس پر ابھی تک کوئی خاطر خواہ کاروائی نہ ہوسکی”

ایسی فلمیں اور ڈرامے اگر ایک طرف ایک مخصوص طبقے کے لئے تفریح کا سامان مہیا کئے ہوئے ہیں تو دوسری جانب ان فلموں میں پشتون ثقافت کی منفی منظر کشی بھی ہوتی ہے ج کے دور رس منفی نتائج ثابت ہونگے اور بچوں سمیت معاشرے میں بگاڑ کا سبب بھی بن رہے ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button