فیچرز اور انٹرویو

سوات : خواجہ سرا پولیس گردی کے خلاف سراپا احتجاج

سوات سے شائستہ حکیم

سوات کے خواجہ سرا بھی مک کے دیگر حصوں کی طرح معاشرے کی ظلم و جبر سے تنگ اگئے ہیں۔ ان کے مطابق معاشرے کی زیادتی تو ایک طرف لیکن پولیس بھی ان کو ایک جگہ رہنے نہیں دیتی جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں ابھی تک اضافہ ہی ہوا ہے۔ مینگورہ میں گزر بسر کرنے والے خواجہ سراؤں کا کہنا ہے کہ سوات میں ان کی تعداد ایک سو بیس کے قریب ہے جس میں بیشتر ملا بابا کے علاقے میں رہائش پزیر ہیں تاہم جب بھی کوئی نیا پولیس افسر اتا ہے تو ان کو بتایا جاتا ہے کہ یہ جگہ خالی کرے۔

Member of the transgeder community are sad after police ordered them to vacate the locality

ان ہی خواجہ سراؤں میں سے کامران عرف لیلا نے ٹی این این کو بتایا کہ جب بھی کوئی نیا ایس ایچ او تھانے میں اتا ہے تو سب سے پہلے ان کے پاس اتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ یہ جگہ خالی کرے کیونکہ ان کے خلاف عوامی شکایات اتے ہیں “ اخر ہم کہاں جائے، ہم بھی تو اس معاشرے کا حصہ ہے، ہم بھی تو عام انسان ہیں ہمیں بھی جینے کا حق ہے۔ گھر میں تو رہنے سے رہے باہر بھی معاشرہ دھتکارتا ہے۔ یہاں ہم اپنے بند کمروں سے باہر نہیں نکل سکتے اور بعد یہی لوگ ہوتے ہیں جن کی شادی بیاہ میں ناچتے ہیں اور ان کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ جاکر تھانوں میں ہمارے خلاف شکایات درج کرتے ہیں پتہ نہیں یہ کرتے ہیں یا پھر پولیس خود ہی منہ اٹھائے چلی اتی ہے اور باسانی جگہ خالی کرانے کا کہتی ہے”

ان کسم پرسی کی حالت میں زندگی بتانے والا شاہین بتاتا ہے کہ ساری زندگی ایسی حالت میں زندگی جی ہے تو کیا ہمیں ڈھنگ سے جینے کا حق نہیں “ ہم نے کبھی سکون کی زندگی جی ہی نہیں، ہماری جتنے مصائب شائد ہی کسی نے جھیلیں ہوں۔ اور تو کچھ کرنے سے رہے بس احتجاج ہی کرسکتے ہیں”۔ خونصہ مشکل کے حقوق و فلاح و بہبود پر کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم خویندو کور کے رہنما تبسم عدنان نے بھی ان کے رہائشی علاقے کا دورہ کیا۔ عدنان تبسم کے مطابق یہ بھی انسان ہیں اور ان کو وہی حقوق حاصل ہیں جو پاکستان کے دیگر شہریوں کو دئے گئے ہیں “ پورے پختونخوا میں ان کے لئے کوئی کام نہیں نہیں کرتا، یہ اس معاشرے کی سب سے عاجز مخلوق ہیں اوراس معاشرے کے امتیازی رویوں نے ان کو معاشرے الگ کرکے کمروں تک محدود کردیا ہے۔ ان کو نہ تو گھر میں وہ مقام ملتا ہے جو ایک عام انسان کو انسانیت کی خاطر ملنا چاہئے اور نہ ہی معاشرے میں۔ اب اگر پولیس ہی ان کو یہ جگہ چھوڑنے کو کہے تو یہ بچارے کہاں جائینگے”۔ تبسم عدنان نے یقین دلایا کہ خویندو کور ان کا یہ مسلہ حل کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

KHwaja sara

پولیس کے اس رویے کے بارے میں جب علاقے کے ایس ایچ او سے پوچھا گیا تو انہوں نے موقف اپنایا کہ پولیس کبھی خود سے کاروائی نہیں کرتی بلکہ علاقے کے مکینوں کی شکایات جمع ہوتی ہیں تو تب پولیس ان کے پاس جا کے ان کو جگہ خالی کروانے کا کہتی ہیں۔ ایس ایچ او اخترایوب کا کہنا تھا کہ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے علاقے میں غلط اور غیراخلاقی کام ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو نوٹس جاری کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ خواجہ سراؤں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے خلاف پولیس گردی نہ روکی گئی تو ان کی برادری احتجاجی راہ اپنا کر سڑکوں پر نکل ائینگے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button