فیچرز اور انٹرویو

تعلیم ہی خواتین کے تمام تر مسائل کا حل ہے :افغان صحافی پشتنہ عربزئی

پشاور ۱۸ اکتوبر : پختون سماج میں خواتین صحافیوں کی کمی یا عدم موجودگی کے محرکات میں سب سے اولین کم تعلیمی شرح ہے جسکے بعد خاندان کی حمایت اور پیشے سے وابسطہ خطرات ہیں۔ ان تمام مشکلات کے باوجود افغان خاتون پشتنہ عربزئی نے اس پیشے میں قدم رکھا ہے اور ایک افغان نجی ٹی وی شمشاد کے ساتھ بحثیت پروڈیوسر پچھلے سات سال سے کام کررہی ہے۔ وہ اپنے پیشے کو عوام اور خصوصی طور پر خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے بروئے کار لارہی ہے۔

پاک افغان جرنلسٹس ایکسچینج پروگرام کے تحت خیبر پختونخوا آئے ہوئے صحافیوں میں پشتنہ عربزئی بھی شامل ہیں۔ افغان صحافیوں کے گروہ نے پاکستانی میڈٰیا کے طریقہ کار میں دلچسپی لی اور میڈیا اور صحافیوں کے کردار کو سراہا۔ ٹی این این کے نمائندے نے پشتنہ عربزئی سے ایک خصوصی نشست کی ہے جس میں ان کے خیبر پختونخوا کے سفر کے علاوہ ان کے تجربات اور دیگر عوامل پر بحث شامل ہیں۔

ٹی این این : خیبر پختونخوا کے دورے سے آپ کو کیا تاثر ملا ؟
پشتنہ : میں نے اپنے زندگی کے بارہ سال پشاور میں گزارے ہیں۔ میں نے ابتدائی تعلیم بھی پشاور ہی سے حاصل کی ہے اور باقی تعلیم کابل سے مکمل کی ہے۔ ہمیں ابھی تک کچھ بھی پتہ نہیں تھا لیکن ابلاغ عامہ اور تکنیکی ترقی کی وجہ سے ابھی آگاہی پھیل رہی ہے۔ پہلے ہم پختون سوسائٹی میں ہونے والے مثبت تبدیلیوں کے بارے میں سنتے تھے لیکن وہ کہی سنی باتیں ہوتی تھیں مگر اب زرائع ابلاغ کی ترقی کی وجہ سے حالات بدل گئے ہیں۔ اب ہمارے پاس پاکستان میں جرنلسٹ دوست موجود ہیں جو کہ ہم ذرائع کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور اسی طرح ہم اپنے پاکستانی صحافی دوستوں کے لئے ذرائع کے طور پر افغانستان سے کام کرتے ہیں۔ میں جرنلسٹس ایکسچینج کی نہایت مشکور ہوں یہ ہمارا چوتھا چکر ہے پاکستان کا اور مجھے یہ کبھی بھی محسوس نہیں ہوا کہ میں اپنے گھر اور ملک سے باہر ہوں ۔ پختونخوا کو میں اپنا گھر سمجھتی ہوں کیونکہ ہماری زبان، مذہب، تہذیب اور سماجی اقدار ایک جیسے ہیں۔

Pushtana2

ٹی این این : سماجی رابطوں کے ویب سائٹس پر پاک افغان تعلقات کے متعلق جو کانٹینٹ پایا جاتا ہے، کیا نظر رکھتی ہے آپ اس حوالے سے ؟
پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں زیادہ عوام روائتی میڈیا تک رسائی نہ ہونے کہ وجہ سے سماجی رابطوں کے ویب وائٹس پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ ان پلیٹ فارمز پر کچھ باتیں یا ایونٹ ایسے شئیر کئے گئے ہیں جو کہ دونوں ممالک کے بیش منافرت پھیلاتے ہیں اور ان میں نوی فیصد کانٹینٹ جھوٹ پر مبنی ہے جو کہ مصدقہ نہیں ہے۔ ہمیں کسی بھی ایسی خبر پر ردعمل نہیں ظاہر کرنا چاہئے جو کہ کسی مصدقہ زرائع سے تصدیق نہ ہوا ہو۔ بغیر تصدیق کئے خبروں کے پیچھے جانے اور ان خبروں کی بنیاد پر الزام تراشیاں کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔

ٹی این این : امن و امان کی صورتحال پختون خواتین کے رہن سہن پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں ؟
پشتنہ عربزئی : جب بھی ہمارے خطے میں امن و امان کی وضع بگڑنے لگتی ہے تو اسکا سب سے زیادہ اثر پختون خواتین پر پڑتا ہے۔ سرحد کے دونوں جانب خواتین امن چاہتی ہیں جو کہ ترقی و خوشحالی کی اولین ضرورت ہے۔ اسی لئے دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کو چاہئے کہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لئے جدوجہد کریں۔
Pushtana3
ٹی این این : کیا آپ کو یہاں تک پہنچنے میں آپکے خاندان کی حمایت حاصل ہے ؟
گو کہ میرے والد پڑھے لکھے نہیں لیکن انہوں مجھے پڑھایا لکھایا اور پھر مجھے خواتین کی آواز کو میڈیا پر لانے میں میرا ساتھ بھی دیا۔ تعلیم ہمارے خطے کے خواتین کے بےشمار مسائل کا حل مہیا کرتا ہے۔ھضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام مرد و عورت کو تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کی ہے۔ لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے پختونوں کے معاشرے میں خواتین کے تعلیم کی شرح اتنی کم ہے۔ دور دراز علاقوں میں خواتین اساتذہ تک نہیں ملتی بچیوں کو پڑھانے کے لئے۔ دور دراز علاقوں میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے حاملہ خواتین کو زچگی کے موقع پر شہروں کے ہسپتالوں تک اسی لئے لایا جاتا ہے کہ ان علاقوں میں طبی عملہ نہیں ہوتا اور اس عمل سے بچے اور ماں دونوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے لڑکیوں کو پڑھائینگے تو وہ کل کو ڈاکٹر بن کر اپنے ہی علاقے کی خواتین کی خدمت کرینگی۔ یہ حیرانگی کی بات ہے کہ جب ایک خاتون کھیتوں میں جا کے محنت مشقت کرتی ہے تو ٹھیک ہے لیکن جب یہی عورت کسی تعلیمی ادارے کا رخ کرتی ہے تو کئی مردوں کے لئے وہ غیرت کا معاملہ بن جاتا ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button