فیچرز اور انٹرویو

بابائے پشتوغزل امیر حمزہ شنواری کی بائیسویں برسی منائی جارہی ہے

پشتو کے نامور شاعر اور لکھاری امیرحمزہ خان شنواری کی آج بائیسویں یوم ولادت پورے عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جارہی ہے۔ بابائے  غزل نے اُنیس سو سات میں خیبرایجنسی کے تحصیل لنڈی کوتل میں جنم لیا۔ حمزہ بابا صرف نویں جماعت پڑھ سکیں لیکن اس کے باؤجود پچیس کے قریب تصانیف کے محرر ہیں۔ اس کے علاوہ بابائے غزل نے علامہ اقبال کے چالیس کتابوں کا پشتو میں ترجمہ کیا۔ حمزہ بابا کی مشہور تصانیف میں د حجاز پہ لور، کلیات حمزہ، اور سپرلی پہ لیمہ کے شامل ہیں۔

پشتو کی سب سے پہلی فلم لیلا مجنون بھی حمزہ بابا نے ہی تحریر کی تھی اور اس میں انہوں خود بھی ایک کردار ادا کیا تھا۔

د بابائی غزل امیرحمزه بابا کلیزه عقیدت او احترام سره مانځلې کیږی۔ حمزہ بابا کی زندگی ، فلسفے اور فکر کے متعلق یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ پشتو کی پروفیسر ڈاکٹر فرخندہ لیاقت ٹی این این کو بتاتی ہے ” امیر حمزہ بابا نے اپنی شاعری میں پشتو زبان سے جس محبت، عقیدت اور عزت کا اظہار کیا ہے وہ کسی دوسرے شاعر کی تحریر میں نہیں ملتا۔ انہوں نے اپنی پشو اور پختونولی کی ستائش کی ہے۔ ایک جگہ وہ اپنی محبوبہ سے مخاطب ہو کہ کہتے ہیں

پلو دے د مخ اخلم پختنے خو دا واورہ——زمری غوندے بہ گورے خو شرمیدل بہ پکے نہ وی

اسی شعر کے اندر حمزہ بابا نے اپنی پشتو اور پختونولی کا اظہار کیا ہے “

بابائے غزل امیر حمزہ خان انیس سو چورانوے میں اپنے آبائی گاؤں میں سپرد خاک کئے گئے ۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button