فیچرز اور انٹرویو

اشیائے خورد و نوش کی طرح مہندی میں بھی ملاؤٹ

 رپورٹ : صبا بنگش

شادی بیاہ ، عید و دیگر تقریبات میں خواتین کا ہاتھوں پر مہندی لگانا رائج ثقافت کا حصہ ہے۔ عمر رسیدہ خواتین یہ مہندی صرف ہاتھ پیر رنگنے کے لئے استعمال کرتی ہیں جبکہ لڑکیاں اس مہندی سے ہاتھوں پر مختلف قسم کے ڈیزائن بناکر رسومات کو چار چاند لگاتی ہیں۔  خالص مہندی خاص قسم کے نباتاتی پتوں کو مسلنے سے تیار کی جاتی ہے جو کہ رنگ چھوڑنے میں وقت لیتی ہے لیکن آج کل مارکیٹ میں ایمرجنسی کون کے نام سے مہندی کی نئی قسم متعارف کی گئی ہے۔ اس خاص قسم کے مہندی میں مختلف کیمیائی مواد کا استعمال کیا جاتا ہے جس کی شرح خرید خالص مہندی کی نسبت زیادہ ہے

henna-pack

پشاور کے مینہ بازار میں مہندی کے روزگار سے وابسطہ حمیداللہ نے ٹی این این کو بتایا کہ ایمرجنسی کون کی طلب پہلے شہروں میں زیادہ تھی لیکن اب دیہاتی خواتین بھی اس کی گرویدہ ہوگئی ہیں۔

  یہ مہندی پانچ سے دس منٹ میں اپنا رنگ چھوڑتی ہے جس کے بعد خواتین اپنے ہاتھ دھوتی ہیں۔ دیہاتی خواتین ہو یا شہری سب ہی اس مہندی کے شوقین ہیں”۔

تقاریب میں اس لڑکی کو قد کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جس کو مہندی میں ڈیزائینز بنانے آتے ہوں اور ہر لڑکی کی کوشش ہوتی ہے کہ ہاتھ پیروں پر دوسرے لڑکیوں سے مختلف ڈیزائن بنائے۔ ارم نے بھی ہاتھوں پر پر ایمرجنسی کون کے زریعے دیزائن بنائے ہیں جن کا کہنا ہے کہ زیادہ مصروفیات کی وجہ سے وہ اپنے ہاتھوں پر گھنٹوں گھنٹوں مہندی لگائے نہیں رکھ سکتی جس کے متبادل وہ ایمرجنسی کون جیسے مہندی کا استعمال کرتی ہیں ” ہم اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ ہمیں وقت ہی نہیں ملتا لیکن ہمارا دل بھی کرتا ہے کہ مہندی لگائیں لیکن وہ مہندی جو جلد سے جلد رنگ چھوڑ دے کیونکہ ہمیں زیادہ کام کرنے ہوتے ہیں اور ہم زیادہ دیر تک ہاتھوں پر مہندی لگائے نہیں رکھ سکتے”۔

Beautiful-Mehndi-Designs-of-2013-72

پشاور میں اس روزگار سے وابسطہ دوسرے دوکنادار عثمان کا کہنا ہے کہ وہ خواتین کو بتاتے بھی ہیں کہ اس مہندی میں کیمیائی مواد شامل کئے گئے ہیں لیکن پھر بھی ایمرجنسی کون کی ہی طلب کرتی ہیں۔ عثمان کے مطابق جو مہندی جلد رنگ لیتی ہے اس میں ضرور کیمیکل ملا ہوتا ہے۔

پچاس سالہ گلنار بی بی جو کرم ایجنسی سے تعلق رکھتی ہیں اور آج کل پشار میں رہائش پزیر ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی خالص مہندی پسند کرتی ہیں۔ وہ مہندی سے ڈیزائنز تو نہیں بناتی لیکن پاوں کے تلوؤں اور بالوں کو رنگنے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔

گلنار بی بی کے مطابق مصنوعی مہندی میں وہ مزا کہاں جو خالص مہندی میں ہے۔ ” پہلے ہم پتوں کو پیستے تھے اور پھر اسے چھان کر اس میں سرسوں کا تیل ملاتے تھے اور جب یہ مہندی ہم بالوں میں لگاتے تھے تو ساری رات یہ بالوں پر لگائے رکھتے تھے اور جب ہم صبح اٹھتے تھیں تو ہمارے بال خوب رنگ چکے ہوتے تھیں۔ اب تو مہندی بالکل بے کار ہوگئی ہے ایک دن بالوں پر لگاتے ہیں تو دوسرے دن ہمارے بال بالکل سفید ہوچکے ہوتے ہیں۔”

لیڈٰی ریڈنگ ہسپتال میں ماہر امراض جلد کی حیثیت سے فرائض سرانجام دینی والی ڈاکٹر نزھت کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی مہندی میں ایسے کیمیکلز کا استعمال ہوتا ہے جس کے استعمال سے نہ صرف بعض بچوں اور خواتین کے پیروں پر خارش کا سبب بنتی ہیں بلکہ اس سے جلد کو مزید نقصان پہنچتا ہے۔

   ضروری نہیں کہ کیمیکل والی مہندی ہی استعمال کی جائے۔ اس سے کنارہ کشی کرنی چاہئے۔ جب بھی مہندی لگائی جائے تو اس پہلے لازمی ہے کہ اسے ٹیسٹ کیا جائے۔ پہلے ہاتھ پر تھوڑا سا لگاکر اسے ٹیسٹ کیا جائے کہ اس کا کوئی ری ایکشن تو نہیں ہورہا جلد پر۔ اگر ری ایکشن نہیں ہورہا تو پھر آپ اسے لگاسکتے ہیں”۔

خالص مہندی کا استعمال نہ صرف مختلف قسم کی بیماریوں سے بچنے کا سبب بنتی ہیں بلکہ جسم میں ٹھنڈے تاثیر کا موجب بنتی ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button